تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 212
کاانکا رکردیں توچھو ڑ دئے جائیں گے۔مگر میاں بیوی مرتے مرگئے پرصداقت کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑا(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ذکر سمیّۃ بنت خباط)۔یہ آزادوں کاسردار نام نہاد غلام یاسربھی انہی غلاموں میں سے تھا جن کے متعلق یہ اتہام لگایاجاتاتھا کہ و ہ محمد رسول اللہ ؐ کوسکھاتے ہیں۔کیاکوئی انسان مان سکتاہے کہ خود ہی قرآن بناکر دینے والے محمدؐ رسول اللہ کے نام پر ایسے ایسے عذاب اٹھاکر جانیں قربان کررہے تھے۔مکہ کے کافر تووقتی جوش میں اندھے ہو رہے تھے کیاآج کل کی عیسائی دنیا میں بھی کو ئی دیکھنے والی آنکھ نہیں ؟ کوئی بولنے والی زبان نہیں جواس بار با دہرائے جانے والے ظالما نہ اورجھوٹے اعتراض کے خلا ف آواز اٹھائے ؟ اعتراض کادوسراپہلویہ ہے کہ کیا وہ کلام ان غلاموں کاسکھایاہواہو سکتا ہے؟اس کا جواب یہ دیاہے کہ جنہیں تم قصے کہتے ہو وہ قصے ہیں ہی نہیں بلکہ پیشگوئیاں ہیں۔ان کااتارنے والاتوآسمانو ںاورزمین کے غیبوں کاجاننے والا خداہے۔یعنی ان میں آئند ہ کے حالات بیان کئے گئے ہیں نہ کہ پرانے واقعات۔اورانسان آئندہ کے حالات نہیں جان سکتا۔اورنہ بتاسکتاہے۔اب دیکھو تویہ جواب کیساواضح اورصحیح ہے۔آنحضرت کا جبرغلام سے انجیل سیکھنا غلط ہے غرض سورئہ نحل میں یہ اعتراض نہیں کہ دوسراکوئی شخص اسے مضمو ن سکھاتاہے۔وہ اعتراض فرقا ن میں بیان ہواہے اوراس کاایسا دندان شکن جواب دیا گیاہے کہ شریف آدمی اسے سن کر پھر اس اعتراض کو نہیںدوہرا سکتا۔اورسورۃ نحل میں وہ اعتراض نہیں بلکہ یہ اعتراض بیان ہواہے کہ فلاں غلام قرآن سکھاتاہے۔حالانکہ وہ غلام عربی نہیں جانتا تھا۔صر ف کچھ آیات انجیل کی جو غالباً یونانی زبان میں ہوں گی کام کرتے وقت پڑھاکرتا تھا۔محمد رسول اللہ اس کے جوش کو دیکھ کر اس کے پاس تبلیغ کے لئے ٹھیر جاتے تھے کہ کوئی بات اس کے کان میں پڑ جائے توشاید کسی وقت ہدایت کاموجب بنے تبھی اس نے خو د اقرار کیا ہے کہ یہ مجھے سکھاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتا ہے کہ اسے توعربی بولنی اس قدر نہیں آتی کہ کوئی علمی مضمون بیا ن کرسکے۔یہ اتنی ہی مدد کرسکتا ہے کہ انجیل کی عبارتیں عبرانی یایونانی زبانوںمیں آپ کویاد کراد ے۔لیکن اگر ایساہوتا توقرآن کاایک حصہ عبرانی یایونانی ہوتا۔مگرقرآن توساراعربی میں ہے۔پھر جبکہ ترجمانی وہ غلام نہیں کرسکتا اورعبرانی یونانی کی عبارتیں قرآن میں موجود نہیں توسکھایا کس نے اورسیکھا کس نے ؟اس سے زبردست جواب اور کیاہو سکتا ہے اوراسے بوداکہنے والے کو سوائے متعصب یاموٹی عقل والے کے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔آنحضرت پر جبر غلام سے سیکھنے کا اعتراض یہ بھی یاد رہے کہ روایت میں دوغلاموں کا ذکر آتاہے لیکن میں نے ایک غلام کا ذکر کیا ہے۔اس کی دووجہیں ہیں۔ایک یہ کہ قرآن کریم کی آیت سے ظاہرہوتاہے کہ وہ ایک