تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 211
ہم بھی امام جماعت احمد یہ قادیان کے لیکچر میں تھے لیکچر اچھا تھا۔مگر ہم نے ذراتجسس کیا اورسٹیج کے پچھلی طرف گئے تومعلوم ہو اکہ انہوں نے اپنے پیچھے ایک عالم چھپایا ہواتھا۔وہ مضمون بتاتاجاتا تھا اورمرزا صاحب دہراتے جاتے تھے۔واقف کار لوگوں میں کئی دن اس پر ہنسی اُڑتی رہی اورسردار صاحب سے بھی کسی نے جاذکر کیا وہ بہت شرمندہ ہوئے۔اورکہا کہ میں نے توسمجھا تھا کہ میں نے اپنی ہوشیاری سے راز معلوم کرلیا ہے۔ایسی ہی ہوشیار ی مکہ والوں نے دکھائی تھی۔کام والے لوگوںکو صبح و شام ہی فرصت مل سکتی تھی۔و ہ صبح اورشام کی نمازیں اداکرنے کےلئے اور قرآن پڑھنے کے لئے دارارقم میں جمع ہوجاتے تھے۔کفار کے بعض زیادہ عقلمند لوگ خیال کرتے تھے کہ ہم نے را ز معلوم کرلیا ہے۔یہ قرآن کی تصنیف کے لئے جمع ہوتے ہیں۔(السیرةالنبویۃ لابن ہشام۔ذکر من اسلم من الصحابة بدعوة ابی بکر) عقلمند کے لئے ا س میں بھی ایک نشان ہے کیونکہ ا س میں بھی یہ اعتراف پایا جاتا ہے کہ قرآن کوکوئی ایک شخص نہیں بناسکتا۔تبھی انہوں نے اس کے بنانے میں مدددینے والی ایک جماعت قراردی۔جن میں سے بعض عقلی باتیں جمع کرتے تھے اوربعض پرانی کتب کی تعلیم جمع کرتے تھے۔اب میں سورۃ فرقان میں اس اعتراض کے جو جواب دئے گئے ہیںبیان کرتاہوں کفارکے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اس کے دوپہلوئوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔(۱)اول یہ کہ جن کی نسبت کہاجاتاہے کہ وہ قرآن کریم کے بنانے میں مدددیتے ہیں۔کیا وہ ایسا کرسکتے تھے ؟ (۲)دوسرے یہ کہ جس چیز کی نسبت کہا جاتاہے کہ بعض غلاموں نے لکھائی ہے۔کیا وہ انسانوں کی لکھائی ہوئی ہوسکتی ہے ؟ پہلے سوال کا جواب قرآن کریم یہ دیتاہے کہ یہ سوال نہایت ظالمانہ اورجھوٹاہے۔ا س جواب میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جن غلاموں کی نسبت کہاجاتاہے کہ و ہ آآکررسول کریمؐ کو قرآن سکھایاکرتے تھے ان کے متعلق دیکھنا چاہیے کہ وہ اسلام کی خاطرکیا کیاتکالیف اٹھارہے تھے۔یہ کیونکر ممکن ہوسکتاتھا کہ ایسے لوگ جو خود قرآن بنا بناکر محمدؐ رسول اللہ کو دیتے تھے اس جھوٹے کلام کی خاطر رات اوردن تکلیفیں اٹھارہے تھے۔اسلام کی خاطران غلاموں میں سے بعض نے جانیںدیں۔بعض کی آنکھیں نکالی گئیں۔ایک میا ں بیوی کو اس طرح قتل کیا گیا کہ خاوند کی دونوں لاتوں کو دواونٹوں سے باندھ کر دوطر ف چلادیا۔اوراس کی بیوی کی شرمگاہ میں نیزہ مارکر اس کے سامنے قتل کیا۔اوران کے لڑکے کو بھی سخت ایذائیں دیں۔اس دوران میں انہیں بار بار کہاجاتاتھا کہ محمدرسول اللہ