تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 210
دیتے ہیں۔ان کفار نے یہ اعتراض کرکے سخت ظلم کیا ہے اورجھوٹ بولاہے اوروہ اس اعتراض کو پکا کرنے کے لئے یوں دلیل دیتے ہیں کہ قرآن میں ہے کیا۔بس پرانے لوگوں کی باتیں نقل کردی گئی ہیں۔محمد(صلعم)وہ باتیں لکھوالیتے ہیں اورصبح و شام ان کے سامنے وہ پڑھی جاتی ہیں (تاکہ یاد رہیں) تُوان سے کہہ کہ قرآن کوتوا س نے اتاراہے جوآسمان اورزمین کے رازوںکو جانتا ہے۔وہ بہت بخشنے والا اورمہربان ہے۔اس آیت میںصاف لفظوں میں اس اعتراض کونقل کیاگیاہے جوویریؔ صاحب سورۃ نحل کی آیت سے نکالنا چاہتے ہیں اوراس اعتراض کو پڑھ کر یہ بھی صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ سورہ نحل والی آیت کااعتراض اس آیت سے مختلف ہے۔کیونکہ سورۃ نحل میں ایک شخص کی طرف سکھانا منسوب کیاگیاہے اوریہاں کئی شخصوں کی طرف۔پھر سورۃ نحل والی آیت میں گونام نہیں لیاگیامگر یہ ضرو ر بتایاگیا ہے کہ جس پر الزام لگایاجاتاہے وہ معیّن شخص ہے۔لیکن سورۃ فرقان میں وہ جماعت غیر معیّن رکھی گئی ہے۔اسی طرح سورۃ نحل میں سکھانے کے کام کا وقت نہیں بتایا گیا لیکن سورۃ فرقان میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ صبح و شام یہ تعلیم کاسلسلہ جاری رہتاہے۔سورۃ فرقان کی آیات کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ چونکہ صبح و شام نماز کے لئے اورقرآن سیکھنے کے لئے دارارقم میں جمع ہوتے تھے۔وہ نادان یہ خیال کرتے تھے کہ شاید اس جگہ جمع ہوکر بعض مسیحی غلام اپنی کتب کی باتیں ان کو بتاتے ہیں یاان سے لکھ کر صحابہ لے آتے ہیں اورپھر و ہ صبح و شام حفظ کی جاتی ہیں۔ان جاہلوں کی عقل میںصبح و شام کی نمازیں توآہی نہیں سکتی تھیں۔وہ اس اجتماع کو منصوبہ بازی کا وقت سمجھتے تھے۔خود مجھے اس بار ہ میں ایک تجربہ ہوچکا ہے جس سے اس قسم کی بدگما نی کی حقیقت خوب معلوم ہوجاتی ہے۔کوئی بیس سال کاعرصہ ہوامیں لاہور گیا۔مجھ سے آریو ں کے مشہور لیڈر لالہ رام بھجدت جواب فوت ہوچکے ہیں ملنے کے لئے آئے۔ان کے ساتھ کچھ اَورصاحبان بھی تھے۔جن میں شیر پنجاب جو سکھوں کامشہور اخبار ہے اس کے ایڈیٹر صاحب بھی شامل تھے۔اتفاق سے اس دن میرالیکچر تھا۔وہ لیکچر سننے کے لئے ٹھیر گئے۔مجھے سارادن کام کی وجہ سے حوالے نکالنے کاموقعہ نہیں ملاتھا۔اس لئے میں نے حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو (اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے)جوآیات کو نکالنے کاخاص ملکہ رکھتے تھے سٹیج پربٹھالیا۔اورکہاکہ میں آپ کومضمون بتاتاجایا کروں گا۔آپ مجھے آیت کے الفاظ بتاتے جایاکریں۔خیر میں نے لیکچر شروع کیا۔جہاں کسی آیت سے استدلال کی ضرورت ہوتی۔میں آہستہ سے ایک دو لفظ آیت کے پڑھ دیتا یا مضمون بتادیتا اوروہ ساری آیت پڑ ھ دیتے۔میں اسے پڑھ کر جو استدلال پیش کرناہوتا تھا اسے بیا ن کردیتا۔دوسرے دن شیر پنجاب میں ایک مضمو ن نکلا کہ کل