تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 206
جانتایاایسی تھوڑی جانتا ہے جسے زبان جاننانہیں کہہ سکتے۔اورقرآن کی زبان تو عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ ہے پھر بتائوکہ ان دونوں کے درمیان تبادلہ خیال کس طرح ہوتاہے۔آخر مذہب کی تعلیمات سکھانے کے لئے زبان ہی ذریعہ ہے اگردونوں شخصوں کی زبان ایک نہیں۔ایک کی زبان غیر عربی ہے اور دوسرے کی عربی۔توعربی دان غیر عربی دان سے کس ذریعہ سے فائدہ اٹھاسکتاہے۔یہ جوا ب نہایت معقول ہے اوراس جواب کو کوئی غیر معقول نہیں کہہ سکتا۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہوسکتے تھے کہ اس کی زبان جس کی نسبت اتہام لگایاجاتاہے کہ وہ سکھاتاہے گوعربی ہو۔مگروہ اپنا مفہوم اداکرنے کی قابلیت نہیں رکھتا۔اگر یہ معنے کئے جائیں تب بھی جواب درست ہے۔کیونکہ جواب میں قرآن کریم کو پیش کیاگیا ہے اوربتایاگیا ہے کہ قرآن کی زبان اس قدروسیع مطالب پر مشتمل ہے کہ وہ مبین کہلانے کی مستحق ہے یعنی وہ ہراعتراض کاخود ہی جواب بھی دیتی جاتی ہے۔پھریہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایک شخص جو اپنا مطلب بھی پوری طرح واضح نہیں کرسکتا یعنی موٹی عقل والااورکُند ذہن ہے۔وہ ایسے مطالب محمد رسول اللہ کوبتائے کہ ہردعویٰ کے ساتھ اس کی دلیل بھی موجود ہو۔اورہرمشکل جو قرآن پڑھتے ہوئے انسانی ذہن پیداکرے اس کاحل بھی ساتھ ہی موجود ہو۔جوشخص کسی علمی بات کے بیان کرنے کے قابل نہیں اورموٹی عقل کاآدمی ہے اوراپنے مطلب کو واضح نہیں کرسکتا وہ اس قسم کی باتیں سمجھا ہی کس طرح سکتا ہے۔یہ دلیل بھی ایسی کامل اورمُسکت ہے کہ ا س کے معقول اورلاجواب ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں کیاجاسکتا۔ممکن ہے کو ئی اعتراض کرے کہ ہوسکتاتھا کہ وہ غلام اپنے بھدّے پیرایہ میں اناجیل کے واقعات سنادیتاہو۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے الفاظ میں بیان کردیتے ہوں۔اس کا جواب یہ ہے کہ مبین کالفظ اس سوال کا جواب بھی دے رہاہے۔کیونکہ بتانے والا اگرنامکمل سچائیاں بتاتا تھاتوکونسی صورت تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مبین صداقتوں یعنی ان صداقتوں میں جو اپنی سچائی کی آپ ہی دلیل ہوں تبدیل کرسکتے تھے کیاکوئی شخص یہ طاقت رکھتاہے کہ جھو ٹ یاغلط بات کو صرف مدلل ہی نہیں بلکہ ایسا مدلل بنادے کہ مضمون روزروشن کی طرح کھل جائے۔بعض مسیحی اعتراض کویہ رنگ دیتے ہیں کہ قرآن کایہ دعویٰ ہے کہ اس میں چونکہ یہود و نصاریٰ کی کتب کی باتیں ہیں اورمحمدؐرسول اللہ بوجہ امّی ہونے کے خود ان باتوں سے واقف نہیں ہوسکتے تھے۔اس لئے ثابت ہواکہ یہ باتیں انہوں نے خدا تعالیٰ سے معلو م کر کے دنیاکو بتائی ہیں۔اس دعویٰ کے خلاف یہ اعتراض ہے کہ وہ بعض مسیحی غلاموں سے غلط اوربے جوڑ روایات سن کر قرآن میں داخل کرلیتے تھے۔اوراس صورت میں یہ ضروری نہیں کہ جس شخص سے