تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 205
(۲)جس کی نسبت یہ لوگ اس کام کو منسوب کرتے ہیں وہ تواپنے خیالات اداکرنے پر قادرہی نہیں اورقرآن کی زبان عربی ہے۔اورعربی بھی وہ کہ مضمون اس میں سے پھوٹ پڑتے ہیں۔ان دونوں جوابوں کودیکھ لو کہ نہایت معقول اورمدلل اور مسکت ہیں۔جوعربی نہ جانتاہووہ بھی عر ب کو کچھ سکھانہیں سکتا۔اورجس کی دماغی حالت ایسی کمزورہوکہ صحیح طورپر با ت نہ کرسکتاہو وہ بھی کوئی علمی بات کسی کو نہیں بتاسکتا۔آنحضرت ؐ پر عیسائی غلام سے سیکھنے کا اعتراض اور اس کا جواب اب میںیہ بتاتاہوں کہ کفار کس شخص کی طرف اشارہ کرتے تھے۔اس غلام کے مختلف نام آتے ہیں۔مگر ان مختلف ناموں میں سے اس جگہ کے مطابق وہی روایت ہے جس میں جبر کی نسبت سکھانے کاشبہ ظاہر کیا گیا ہے۔کیونکہ باقی غلام جن کے نام لئے گئے ہیں کھلے طورپر مسلما ن تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صبح شام ملتے رہتے تھے۔ان میں کسی ایک کو اعتراضات کا نشانہ بنانے کی کوئی وجہ نہ تھی۔اگراعتراض ہوتاتوسب پرہو تا۔وہ شخص جو اکیلا تھا اور جس کی نسبت کفار کو شبہ ہوتاتھا کہ شاید یہ باتیں سکھاتاہے وہ جبر ہی ہے جو بہت دیر بعد مسلمان ہواہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں نہیں آتاتھا بلکہ جیساکہ روایات سے ثابت ہے آپ بعض دفعہ اس کے پاس جبکہ وہ تلواریں بناتے ہوئے انجیل کی آیات پڑھاکرتاتھا کھڑے ہوجاتے تھے۔پس اس آیت میں جس شخص کی طرف اشارہ ہے وہ یہی شخص ہے اورجیساکہ حالا ت سے معلوم ہوتاہے کہ یہ شخص اپنے مذہبی جو ش کی وجہ سے لوہاکوٹتے ہوئے انجیل پڑھتاجاتاتھا اوربوجہ غیر زبان ہونے کے عجوبہ خیال کرتے ہوئے لوگ ا س کے گرد جمع ہوجاتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے جوش سے متاثر ہوتے اورآپ بھی بعض دفعہ اس کے پاس کھڑے ہوجاتے اوریہ خیال کرکے کہ جس شخص میں مذہب کااس قدر جوش ہے وہ ضرور سنجیدگی سے دینی مسائل پرغورکرے گااسے اسلام کی تلقین کرتے۔بعض لوگ جنہوں نے اس کے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا انہوں نے یہ مشہورکردیا کہ وہ آپ کو سکھاتاہے۔چنانچہ اوپر جو احادیث نقل ہو ئی ہیں ان میں یہ بھی آتاہے کہ اس سے یا اس کاجوایک اورساتھی تھا اس سے بعض لوگوں نے سوال کیا کہ کیاتم محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کواپنے دین کی باتیں سکھاتے ہو؟تواس نے کہا کہ نہیں وہ مجھے سکھاتے ہیں۔(روح المعانی زیر آیت ھٰذا) اس سوال و جواب سے ظاہر ہے کہ لوگ اسی کی نسبت گمان کرتے تھے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھاتاہے۔اس الزام کا جواب قرآن کریم نے یہ دیاہے کہ اس کی زبان تواعجمی ہے یعنی وہ عربی زبان نہیں