تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 203

آگے ویر ی کہتا ہے کہ یہی توہے جو وہ کیاکرتے تھے اوراسی وجہ سے کہ محمد صاحب اس مسالے کولے کر اوراپنی نبوت کے مقصد کی تائید میں ڈھال کر خدا(تعالیٰ)کی طر ف منسوب کرکے ان واقعات کو دہرادیاکرتے تھے اورجبرائیل فرشتہ کی وحی اس کو بتاتے تھے۔ہم ا س پرانے الزام کو دہرانے میں ہچکچاتے نہیں کہ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولاکرتے تھے (تفسیر القرآن از پادری ویری زیر آیت ھٰذا)(نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ہٰذِہِ الْخُرَافَاتِ) آیتيُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ کا اصل مفہوم مسلمان مفسروں اورعیسائی مؤرخو ں اورپادریوں کے خیالات تحریر کرنے کے بعد اب میں اس آیت کامفہو م بیان کرتاہوں۔آیت زیر بحث سے معلوم ہوتاہے کہ بعض لو گ اعتراض کیاکرتے تھے کہ رسول کریم ؐ کو قرآن کامضمون کوئی انسان سکھا تا ہے۔اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دیتاہے کہ ان کی زبان تواعجمی ہے اوریہ کلام توعربی میں ہے۔مسیحی کہتے ہیں کہ یہ جوا ب غلط ہے کیونکہ معترض یہ نہیں کہتا کہ وہ غلام قرآن کامضمون عربی زبان میں بناکرآپ کو دےدیاکرتے تھے۔بلکہ یہ کہتا ہے کہ وہ یہودی کتب کے مضامین آپ کو بتاتے تھے اورآپ ان مضامین کو اپنی عبارت میں ڈھال لیاکرتے تھے۔میرے نزدیک کسی کے کلام کو سمجھنے سے پہلے اس کی عام حالت کاجائزہ لینابھی ضروری ہوتاہے۔اگر قرآن کے دوسرے جوابات جووہ مخالفوں کے اعتراضوں کے دیتاہے ایسے ہی بیہودہ ہوتے ہیں جیساکہ یہ جواب ہے جوپادری ویری ؔ اورآرنلڈ صاحب نے قرآن کریم کی طرف منسوب کیا ہے توبے شک ان کی یہ تنقید قابل اعتناء ہوسکتی ہے۔لیکن اگراس کے برخلاف قرآن اپنے مخالفوں کے اعتراضا ت کے مناسب اورمدلل جواب دیتاہے۔توپھر ا س امر کے تسلیم کرنے کے سواکوئی چارہ نہیں کہ یاتوپادری صاحبان نے سوال نہیں سمجھا یاجواب نہیں سمجھا۔دوسراقابل غورامر اس بارہ میں یہ ہے کہ اگریہ جواب ایسا ہی بے جو ڑ تھا جیسا کہ میسرز ویری اورآرنلڈ ظاہر کرنا چاہتے ہیں توکیوں مکہ والوں نے اس کوردّ نہ کیا ؟ اگر ان کاوہی اعتراض تھا جومیسرز ویر ی اورآرنلڈ نے سمجھا ہے توانہوں نے کیوں اس کے جواب میں یہ بات نہ کہی کہ ہماراتویہ اعتراض نہیں کہ آپ عربی اس یہودی یا عیسائی غلام سے بنواتے ہیں۔ہم تویہ کہتے ہیں کہ آپ مسالہ اس سے لیتے ہیں۔اورپھراپنی زبان میں اس کے مضامین کوبیان کردیتے ہیں۔کفار کی طرف سے یہ اعتراض کسی کمزورروایت میں بھی نہیں پایاجاتا۔یہ بھی نہیں کہاجاسکتا کہ شاید مسلمانوں نے وہ اعتراض تاریخ میں نقل نہ کیا ہو۔کیونکہ جب بیسیوں روائیتیں جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یااسلام پر زد پڑتی ہے۔کتب احادیث میں درج ہیں۔تواس ایک اعتراض کے نقل کرنے میں ان کے لئے کیا روک تھی ؟ پس صاف ظاہر ہے کہ کفار نے اس امر کو تسلیم کرلیا تھا کہ ان کے سوال کوٹھیک طورپر سمجھ لیا گیا ہے او ر جواب