تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 16

دست نگر۔صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب سے کام لے رہاہے۔تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۔فرمایاکہ جوانسان آسمان اور زمین کو بِالْحَقّ نہیں مانتا۔وہ لازماًمشرک بنتا ہے۔کیونکہ کوئی عقلمند یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس جہان کوخدا نے بنایا ہے مگراس میں مقصد کوئی مقرر نہیں کیا۔کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہے توضرور اس کاکوئی مقصد ہے۔اوراگر اس کاکوئی مقصد نہیںتویقیناًخدا نے نہیں بنایا۔بلکہ یہ خودبخود ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ذرّہ ذرّہ خدا کاشریک ہے۔دوسرے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ زمین و آسمان کابناناحق کے ساتھ ہے۔یعنی ان کا مادہ ہماراپیداکردہ ہے۔اس لئے اس میں تصرف کاہم کو حق حاصل ہے۔اس میں ان لوگوں کاردّ ہے جو ایک طرف خدا تعالیٰ کو مادہ کاخالق نہیں سمجھتے۔دوسری طرف اس کی ترکیب کا فاعل خدا تعالیٰ کو قرار دیتے ہیں۔(ستیارتھ پرکاش از سوامی دیانند اردو ترجمہ کوریمل داس جی باب ۸ ص ۲۷۴)حالانکہ جو خالق نہیں اُسے کیا حق حاصل ہے کہ اس میں تصرف کرے اورایک موجود بالذات کو اپنے حکم کے نیچے لائے یہ توظلم ہوجاتا ہے۔اورنیز یہ عقید ہ مشرکانہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ان گنت وجودوں کو ازلی قراردیاگیا ہے۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ۰۰۵ اس نے انسان کو ایک حقیر نطفہ سے پیدا کیاہے پھر (اس کے باوجود )وہ اچانک کھلم کھلا جھگڑنے والا بن جاتا ہے۔حلّ لُغَا ت۔نُطْفَۃٌ۔النُّطْفَۃُ کے معنے ہیں۔اَلْمَاءُ الصَّافِیْ قَلَّ اَوْ کَثُرَ۔صاف وشفاف پانی خواہ تھوڑاہویازیادہ۔یُقَالُ سَقَانِیْ نُطْفَۃً عَذَبَۃً چنانچہ سَقَانِیْ نُطْفَۃً عَذْبَۃً کامحاورہ بول کر یہ مراد لیتے ہیں کہ اس نے مجھے صاف شیریں پانی پلایا۔وَقِیْلَ قَلِیْلُ مَاءٍ یَبْقٰی فِی دلْوٍ اَوْقِربَۃٍ۔بعض نے نطفہ کے معنے اس تھوڑے سے پانی کے کئے ہیں جوڈول یا مشکیزہ کو خالی کرتے وقت باقی رہ جاتا ہے۔مَاءُ الرَّجُلِ وَالْمَرأَۃِ۔مرد یاعورت کی منی۔اَلْبَحْرُ۔نطفہ کے ایک معنے سمند رکے بھی ہیں۔ا س کی جمع نِطَافٌ اورنُطَفٌ آتی ہے۔(اقرب) خَصِیْمٌ:خَصِیْمٌ خَصَمَ (یَخْصِمُ خَصْمًا)سے صفت مشبّہ ہے اورخَصَمَہُ کے معنے ہیں غَلَبَہُ فیِ الْخُصُوْمَۃِ۔اس پر جھگڑے میں غالب آیا۔اَلْخَصِیْمُ۔اَلْمُخَاصِمُ۔خصیم کے معنے ہیں۔جھگڑنے والا۔اس کی جمع خُصَمَاءٌ آتی ہے (اقرب) تفسیر۔آیتخَلَقَ الْاِنْسَانَ الخ میں تین باتوں کی طرف اشارہ اس آیت میں یہ بتایا