تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 189
حالانکہ اول تویہ واقعہ ہی غلط ہے (اس واقعہ پر ا صل گفتگو اس کے اصل مقام یعنی سورئہ حج میں ہوگی)دوم ا س آیت کے سیاق و سباق سے اس مضمون کا کوئی جو ڑ ہی نہیں۔بھلا کو ن عقلمند اس امر کو تسلیم کرسکتاہے کہ واقعہ ہواہو سورۃ النجم کی تلاوت پر۔اس کا ذکر ہو اہو سورۃ حج میں اوراعوذ پڑھنے کے لئے سورۃالنحل میں تاکید کی جاوے۔اور تاکید بھی اسلامی غلبہ کے ذکرمیں کی جائے تاکہ کسی کا ذہن اس کے مضمون کی طر ف جاہی نہ سکے۔نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ۔میں جیساکہ اوپر بتاچکاہوںیہ آیت اپنے مضمون ماسبق کے ساتھ پوری طرح مطابق ہے اور کسی دوسرے واقعہ کی طرف اسے منسوب کرنا ظلم ہے۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میراشیطان مسلما ن ہوگیا ہے وہ مجھے سوائے خیر کے کسی چیز کاحکم ہی نہیں دیتا(مسند احمد بن حنبل مسند ابن عباس ؓ) اس ارشاد کی موجودگی میں کوئی عقل مند کس طرح تسلیم کرسکتا ہے کہ شیطان نے آپ کی زبان پر شرک کے کلمات جاری کروائے تھے۔مسلمان توتوحید کاقائل ہوتا ہے۔پس آپ کاشیطان جب موحد ہوگیا تھا تواگر اسے کوئی طاقت تھی بھی توبھی وہ آ پ کی زبان پر مشرکانہ کلمات جاری نہیں کرسکتا تھا۔پس اس فرضی واقعہ کو اس آیت پرچسپاں کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بہتان ہے۔قرآن کریم پڑھنے سے پہلے تعوذ کی حکمت یہ سوال کہ قرآن سے پہلے استعاذہ(اعوذپڑھنے)کی کیا ضرورت ہے ؟ ا س کا جواب یہ ہے۔کہ چور وہیں آتاہے جہاں خزانہ ہو۔اوراسی سے مقابلہ کرنے کی فکر کی جاتی ہے جس سے خطرہ ہو۔قرآن کریم ایک ایسا روحانی خزانہ ہے جس کے مٹانے کے لئے شیطان تڑپتاہے اور وہی ہتھیار ہے جس سے اس کاسرکچلاجاتاہے۔پس شیطان اورشیطانی لوگ پوری کوشش کرتے ہیں کہ اس سے لوگوں کو دور رکھیں۔اس وجہ سے اس کی تلاوت سے پہلے استعاذہ کاحکم دیا۔اس حکم سے یہ بھی نتیجہ نکالاجاسکتاہے کہ جب قرآن کریم سے پہلے بھی استعاذہ کاحکم ہے۔توباقی سارے کاموں سے پہلے توبدرجہ اولیٰ استعاذہ کرلیناچاہیے۔اسلامی ترقیات کے ساتھ تعوذ کا گہر اتعلق اس سوال کا جواب کہ یہ حکم اس موقعہ پرکیوں رکھا گیا ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ سب سے پہلا موقعہ ہے کہ اسلامی حکومت کی ایسی وضاحت سے خبردی گئی ہو۔پہلے بھی اشارات تھے مگر اس سے پہلے اس قدروضاحت نہ ہوئی تھی۔اورجب دنیو ی ترقیات کا ذکر ہوتوبعض کمزورطبائع دینی ضرورتوں سے غافل ہو کر دنیوی امورکی ادھیڑ بن میں پڑ جاتی ہیں پس چونکہ اس سور ۃ میں دنیو ی ترقیات کی خبردی گئی تھی۔ساتھ ہی مسلمانوں کوحکم دے دیاگیا کہ آئندہ جب قرآن کریم پڑھنے لگو اس سے پہلے تعوذ