تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 181

دوسری اقوام سے بھی معا ہدات کی پابندی لازمی ہے ا س آیت کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ اس میں غیر قوموں کے ساتھ معاہدات کا بھی ذکر ہے۔اس مضمون کے لحاظ سے اس آیت کو ایک مستقل مضمون قراردینا ہوگا۔یعنی لَاتَکُوْنُوْاسے نیامضمون شروع سمجھا جائے گا۔اورمطلب یہ ہو گا کہ جس طر ح اللہ تعالیٰ کے عہد اوراپنے اندرونی عہد کی پابند ی لازمی ہے۔اسی طرح دوسری اقوام کے ساتھ جو عہدکئے گئے ہوں ان کی پابند ی بھی ضروری ہے۔ان معاہدات کی نگہداشت رکھو ورنہ دنیا کاامن برباد ہوجائے گا۔چنانچہ دَخَلًا کا لفظ بھی اسی بات کو ظاہر کرتا ہے اور کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ٍ سے بھی یہی مراد ہے کہ امن کے قائم ہونے کے بعد فساد کی صورت پیدانہ کرو۔اس صورت میں اس آیت کے تین معنے ہوسکتے ہیں۔دوسری قوم سے معاہدہ کرتے وقت صفائی نیت ضروری ہے (۱)یہ جائز نہیں کہ تم کسی دوسری قوم سے اس لئے صلح کرلو کہ ابھی وہ طاقتور ہے تم اس کامقابلہ نہیں کرسکتے۔معاہدہ کے بعد جب وہ تمہاری طرف سے غافل ہوجائے گی توتم اند رہی اندر تیاری کرکے ایک د ن اس پر حملہ کرکے اسے تباہ کردوگے۔سیاسی دنیا ا س قسم کی حرکات ہمیشہ سے کرتی آئی ہے۔اسلام کی بنیاد چونکہ عدل،احسان اورایتاء ذی القربیٰ پرہے وہ اس فعل کو خواہ وہ دشمن اسلام کے مقابل پر کیا جائے ناپسند کرتااوراس سے منع فرماتا ہے۔ایسے معاہدے ناجائز ہیں جو کسی قوم کو کمزور کر کے اس کے ملک پر قبضہ کرنے کی نیت سے ہوں (۲)دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ ایسے معاہدات نہیں کرنے چاہئیں کہ جن کی غرض یہ ہو کہ کسی کمزورقوم کے ساتھ بظاہر تومعاہدہ کیا جائے اوردراصل غرض اس کے ملک پر قبضہ کرنے کی ہو۔جیسا کہ یورپین قومیں آج کل کررہی ہیں۔(۳)تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ ایسے معاہدات ہرگز جائز نہیں جن کی غرض معاہد قوم کو کمزورکرناہو۔چاہیے کہ جس سے صلح کرو اس سے پوری صلح کرو۔اس آیت میں کس قدر زبردست اخلاقی تعلیم دی ہے اوربتایا ہے کہ قومی برتری بے شک اچھی چیز ہے لیکن دھوکے اورفریب سے اس کاحصو ل ہرگز جائز نہیں۔معاہدات کی غرض قیام امن ہوناچاہیےنہ کہ دوسرے کا نقصان یا فریب دہی۔آج کل یورپ کی تباہ شدہ حالت معاہدہ کی اسلامی تعلیم کو چھوڑنے کی وجہ سے اس کے مقابل