تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 180
گیا۔اَرْبَی عَلَیْہِ کَذَا۔یعنی کسی سے آگے بڑھ گیا(اقرب)پس اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِيَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ کے معنے ہوں گے کہ ایک قوم دوسری سے زیاد ہ طاقتورہے۔یَبْلُوْکُمْ۔یَبْلُوْ بَلَی سے مضارع واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے اوربَلَاہُ یَبْلُوْہُ بَلَاءً کے معنے ہیں۔جَرَّبَہُ وَاخْتَبَرَہُ۔اس کاامتحان لیا (اقرب)پس یَبْلُوْکُمْ کے معنے ہوں گے کہ وہ تمہاراامتحان کرتا ہے۔تفسیر۔اس آیت کا مطلب پہلی آیت سے متعلق ہونے کی صورت میں اس آیت کو ایک نیامضمون بھی قرار دیاجاسکتاہے اورپچھلی آیت کے مضمون کا تسلسل بھی قراردیاجاسکتاہے۔اگر پہلی آیت کے مضمون کوہی جاری سمجھا جائے تواس کے معنے یہ ہوں گے کہ آپس کے معاہدات کوپوری طر ح سے نبھائو۔اگر تم ان عہدوں کوتوڑو گے تو خدا تعالیٰ نے جوتمہاری مضبو ط جماعت بنادی ہے وہ تباہ ہوجائے گی اورآپس کااعتبار جاتا رہے گا۔معاہدات کی پابندی قومی اتحاد کے قیام کے لئے اشد ضروری ہوتی ہے۔کیونکہ جماعت کاقیام ایک دوسرے سے حسن سلوک پر مبنی ہوتاہے۔اورحسن سلوک اس وقت تک رہتا ہے جب تک لوگ معاہدات کی پابند ی کریں۔جب لو گ معاہدات پو رے نہ کریں۔توپہلے بددلی اوراس کے بعد بد ظنی پیداہوجاتی ہے اورایک شخص کے برے عمل کے نتیجہ میں دوسرے سینکڑوں آدمی قومی نظام کے فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔پس چاہیے کہ انسان جس طر ح بھی ہوسکے اپنے وعدوں کو پوراکرے تاکہ اعتبارقائم ہو اورلوگ برضاورغبت ایک دوسرے کی امداد کے لئے تیار ہوں اورقوم ترقی کرسکے۔قومی عہد کی تشریح انفرادی عہدکے علاوہ ایک قومی عہد بھی ہوتاہے یعنی افراد ایک شخص کے ہاتھ پر قومی ترقی کے لئے عہد کرتے ہیں جس کانام خلافت ہے۔وہ عہد بھی اس کے اندر شامل ہے اوراس آیت میں اس کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے۔فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری ایک جماعت بنادی ہے اورایک نظام قائم کردیا ہے۔اور تم نے ا س نظام کی پابندی کی قسمیں کھائی ہیں۔اب اس کی پابندی کرتے رہنا۔ورنہ نتیجہ یہ ہوگاکہ تمہاری قربانیوں سے جورعب اسلام کاقائم ہواہے وہ جاتارہے گا۔اورپھر نئے سرے سے محنت کرنی پڑے گی۔یہ ایک بہت بڑاسیاسی نکتہ بتایاہے چند آدمیوں کے تفرقہ سے سب نظام برباد ہو جاتا ہے اورقوم کی محنت اکارت جاتی ہے اورنئے سرے سے محنت اورقربانی کی ضرورت پیش آتی ہے۔مگر اُدھڑی ہو ئی چیزپھر اس طرح نہیں جڑتی جیسے کہ نئی اورپھٹے ہوئے دل پھر ا س طرح نہیں ملتے جس طرح کہ وہ جوہمیشہ متصل رہے۔اس لئے اس عہد کے قیام کے لئے نہایت سخت کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔