تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 170
فحشاء سے مراد اس اثباتی تعلیم کے بعد نفی کے پہلو کو لیا گیا ہے اوراس میں بھی تین ہی باتوں سے روکا گیاہے۔سب سے پہلے فحشاء سے روکاہے اور فحشاء کالفظ جب منکر کے مقابل میںآئے توا س سے مراد صرف وہ بدی ہوتی ہے جس کاعلم صرف ا س کے مرتکب کو ہو،دوسرے کو نہ ہو۔اس کے بعد منکر سے روکاہے۔منکر سے مراد وہ بدی ہے جو لوگوںکو نظرآتی ہو اوروہ اسے برامحسوس کرتے ہوں۔اگرچہ اس کااثر باقی لوگوں کے حقوق پر عملاً بہت کم پڑتاہو۔مثلاً گالیاں دیناجھوٹ بولنا وغیرہ یہ سب منکر میں شامل ہیں۔پس منکر سے اس لئے منع فرمایا کہ اس سے لوگوں کو ذہنی تکلیف پہنچتی ہے۔تیسری بات جس سے روکا ہے وہ بغی ہے یعنی کسی کاحق مارلینا۔یہ بدی نہ صر ف لوگوں کو محسوس ہی ہوتی ہے بلکہ اس سے لوگوںکونقصان بھی پہنچتاہے۔دنیا کی تمام بدیاں فحشاء منکر اور بغی میں آجاتی ہیں دنیا میں جس قد ربدیاں پائی جاتی ہیں خواہ وہ کسی قسم کی ہی کیوں نہ ہو ں۔ان تینوں اقسام میں آجاتی ہیں۔یاتوبدی ایسی مخفی ہوتی ہے کہ لوگوں کی نظر سے پوشید ہ رہتی ہے یاایسی ہوتی ہے کہ دوسرے لوگوں کوبھی اس کاعلم ہوجاتا ہے اورانہیں اس سے ذہنی تکلیف پہنچتی ہے اوریا پھر وہ بدی ایسی سخت ہوتی ہے کہ اگر بعض کو اس سے ذہنی تکلیف پہنچتی ہے توبعض دوسروں کے حقوق اس فعل کی وجہ سے تلف ہوجاتے ہیں۔ان سب قسم کی بدیوں سے بچنے کااس آیت میں حکم دیاگیا ہے۔کامل تعلیم کے لئے تمام فطرتوں کا لحاظ ضروری ہوتا ہے میں نے اوپر بتایا تھا کہ کامل تعلیم کے لئے جو سب ضرورتوں پر حاوی ہو یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں تما م فطرتوں کالحاظ رکھا گیاہو۔اس آیت میں جو تعلیم دی گئی ہے اس میں وہ بات بھی موجود ہے کیونکہ دنیا میں بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جو فحشاء میں مبتلاہوتے ہیں لیکن ظلم کرنا ہرگز پسند نہیں کرتے اوراسی طرح کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو ظلم کرکے دوسروں کامال تولے لیتے ہیں مگر جھوٹ سے ان کو نفرت ہوتی ہے اوروہ کسی کا حق مارنا بھی پسند نہیں کرتے مگرشریعت کی بیان کردہ وہ بدیاں جوانسان کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں یعنی دل میں کسی کا کینہ رکھنا یاعیب جو ئی کرنا یاچغلی کرنا وغیرہ وہ ان میں مبتلاہوتے ہیں۔قرآنی تعلیم ہی مکمل تعلیم ہے اللہ تعالیٰ نے تین جامع الفاظ رکھ کر ہرقسم کی بدیوںکو اورسب طبائع کی بدیوں کو شامل کردیا ہے۔اورایسا ہی نیکیوں کے ذکر میں بھی ہرقسم کے میلا ن والوں کو جمع کردیا ہے۔عدل کو بھی اوراحسان کو بھی اوربلامبادلہ خدمت کرنے کی طاقت کوبھی۔