تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 169

دوسرے رشتہ دار سے سلوک کیاکرتا ہے۔ماں کی محبت بے لوث ہو تی ہے اس سلو ک سے احسان کا سلوک مراد نہیں کیونکہ احسان کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔اس سلوک سے وہ سلوک مراد ہے جو محبت طبعی کی وجہ سے مبادلہ کے خیال کے بغیر کیا جاتا ہے۔احسان کر تے وقت توانسان کو یہ خیال ہوتاہے کہ فلاں شخص نے مجھ سے اچھا سلوک کیا ہے میں ا س سے بہتر بدلہ دوں تامیر ی نیک نامی ہو یاگنہگار کی خطامعاف کرتے ہوئے یہ خیا ل آجاتا ہے کہ میں اس سے حسن سلوک کروں گاتوا س کے دل سے بغض نکل جائے گا اوریہ میرادوست بن کر میری تقویت کاموجب ہو گا۔لیکن ماں جو اپنے بچہ سے محبت کرتی ہے اوراس کے لئے قربانی کر تی ہے ا س میں ذرّہ بھر بھی بدلہ کی خواہش نہیں ہوتی۔بلکہ اس کی محبت کی بنیا د اس کی اپنی ہی قربانی پر ہوتی ہے ایک عورت کے ہا ں جب اولاد نہیں ہوتی توا س کے دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہوتاکہ میرالڑکا ہوتاتووہ میری خدمت کرتا۔بلکہ اسے اولاد کی خواہش اس جذبہ کے ساتھ ہوتی ہے کہ میں اسے پالتی،اس کی خدمت کرتی،اسے کپڑے پہناتی،اُسے بیاہتی ،اس کے بچوں کوکھلاتی۔غرض اولاد کی خواہش کے وقت ماں کے دل میں خدمت لینے کا ادنیٰ سے ادنیٰ احساس بھی نہیں ہوتا۔بلکہ اس خواہش کاموجب اولاد کی خدمت کرنے کاشوق ہوتاہے یہی وہ نیکی کاجذبہ ہے جو انسان کے لئے سب سے بڑی نیکی ہے۔اورجس کے حصول کے بعد انسان کا اخلاقی وجود مکمل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسان کا مقام حاصل کرنے کے بعد جب کہ تم کو لینے سے زیادہ دینے کی خواہش ہوتی ہے تووہ مقام نیکی کابھی حاصل کرو کہ سب بنی نوع انسان تمہیں اپنے بچے نظر آنے لگیں اوران کی خدمت کا جوش تمہارے دل میں اس طرح موجزن ہو جائے جس طرح ایک ماں کے دل میں اپنے بچہ کی محبت جوش مارتی رہتی ہے۔احسان اور ایتاء ذی القربیٰ قرب الٰہی کی دو سیڑھیاں ہیں یہ تعلیم جو اوپر بیان ہوئی ہے اس میں اثباتی تعلیم کا ذکر کیا گیا ہے اورنہایت مختصر الفاظ میں اخلاق فاضلہ کے سب پہلو ئوں کو بیان کردیاگیاہے۔ا س موقعہ پر یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ کاحق توعد ل میں ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شخص احسا ن یا ایتاء ذی القربیٰ کامعاملہ نہیں کرسکتا۔مگر بندوں کے ساتھ سلوک کاحکم عدل میں بھی ہے اورپھر احسان و ایتاء ذی القربیٰ میں بھی ہے بلکہ پچھلے دومقامات میں توخالص بندوں ہی کے ساتھ تعلقات سلو ک مراد ہیں۔اس میں یہ اشار ہ ہے کہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے اوراس کی مرضی کو پانے کے لئے بندوں سے سلوک ضروری ہے۔گویا احسان اورایتاء ذی القربیٰ قرب الٰہی کی دوسیڑھیا ں ہیں۔