تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 168

اوران سے کوئی فساد مذہب میں یااخلاق میں یاعقل میں یاتمدن میں نہ پیدا ہوتاہو۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان تینو ںخوبیوں کو جمع کردیا ہے۔دیکھو کتنی چھوٹی سی آیت ہے مگر اس میں تکمیل کے دونوں پہلو(نفی واثبات)کس خوبی اورخوش اسلوبی سے جمع کردئے گئے ہیں۔تین باتوں یعنی عدل،احسان اورایتاء ذی القربیٰ کے کرنے کاحکم دیاگیا ہے اورتین باتوں یعنی فحشاء ،منکر اوربغی سے روکاگیا ہے۔عدل کے معنی برابری کے ہوتے ہیں یعنی انسان دوسر ے سے ایسا سلو ک یا معاملہ کرے جیساکہ اس کے ساتھ کیا جاتا ہے۔اس پرظلم کیا جاتا ہے تووہ اتنا بدلہ لے سکتا ہے جتنا ظلم ہواہے مگر اس سے زیادہ سختی نہیں کرسکتا۔اگر اس سے کوئی شخص حسن سلوک کامعاملہ کرتا ہے تواس کابھی فرض ہے کہ کم سے کم اتنا حسن سلوک اس سے کرے۔اللہ تعالیٰ سے عدل کے معنی اللہ تعالیٰ سے عد ل کرنے کے یہ معنے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ا س کے ساتھ نیک معاملہ کیا ہے۔یہ بھی اس کاحق اداکرے اوراپنے وجود سے اللہ تعالیٰ کے لئے اعتراضات کے مواقع پیدانہ کرے۔اسی طرح یہ کہ ا س کاحق غیر اللہ کو نہ دے اورشرک میں مبتلا نہ ہو کیونکہ شرک کر نا گویا خدا تعالیٰ کاحق چھین کردوسرے کو دینا ہے اوریہ ظلم ہے۔اسی وجہ سے قرآن کریم میں شرک کانام ظلم بھی رکھا گیاہے۔پس خدا کا بیٹایابیوی یااس کے شریک قرا ردینا عد ل نہیں بلکہ ظلم ہے۔کیونکہ ظلم اسی کو کہتے ہیں کہ ایک کاحق کسی اورکے سپرد کردیاجائے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنی طرف منسوب کرلینا بھی عدل کے خلاف ہے۔مثلاً شریعت کابنانا اورالہا م الٰہی کابھیجنا خدا تعالیٰ کاکام ہے۔اب اگر کوئی شخص خود ہی شریعت بنانے کامدعی بن بیٹھے یاالہام نازل کرنے کا جیسا کہ بہاء اللہ وغیر ہ نے کیاتووہ عدل کو توڑتا ہے۔اگر انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ عد ل کرے توشرک،کفر اورنافرمانی سب مٹ جائیں۔عدل سے بڑھ کر دوسرادرجہ احسان بتایا ہے۔احسان کامفہوم یہ ہے کہ یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دوسراہم سے کیاسلوک کرتاہے بلکہ اگر وہ براسلوک کرتاہے تب بھی ہم اس کے ساتھ اچھا ہی سلو ک کریں۔یہ مقام پہلے مقام سے بڑاہے اورعفو،درگذر،غرباء کی مدد،صدقہ و خیرات اورقومی خدمات وغیر ہ نیکیا ں سب ا س کے اند رشامل ہیں۔علوم کی ترقی و تدوین کے لئے کوشش کرنابھی اس کے اند ر آجاتا ہے کیونکہ ان کے نتیجہ میں اپنوں اوربیگانوں کو جسمانی اور روحانی فائدہ اورآرام پہنچتا ہے۔ایتاء ذی القربیٰ کا درجہ تیسرامقام اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى کا بتایا ہے جس کے معنے ’’رشتہ داروں کو دینا یا رشتہ داروں کادینا ہے ‘‘۔اورمطلب آیت کا یہ ہے کہ بنی نوع انسان سے ایساسلوک کرو جیساکہ ایک رشتہ دار