تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 167
اس آیت میں تین باتوں کے کرنے کاحکم دیاگیاہے۔اورتین باتوں سے رکنے کا حکم دیاگیاہے اوربری باتوں سے روکنا رحمت پردلالت کرتا ہے اوراچھی باتوں کے کرنے کاحکم دینا ہدایت پر دلالت کرتا ہے۔یہ آیت قرآن کریم کے جامع ہونے کی بہترین مثال ہے پھر اس میں اخلا قی امورکے سب مدارج کو جمع کردیاگیا ہے جس کی وجہ سے یہ آیت جامع ہو گئی ہے اورتِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍکی بہترین مثال ہے۔آیت کو ختم لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ پر کیا گیا ہے۔تَذَکَّرَ کے وہی معنے ہوتے ہیں جوذَکَرَ کے معنے ہیں پس اس کے معنے یاد رکھنے یا خدا تعالیٰ کی بڑائی کرنے کے ہیں۔اورلَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ کے معنے ہیں تاتم اللہ تعالیٰ اوربندوں کے حقوق کو یاد رکھو یایہ کہ تاتم اللہ تعالیٰ کی تحمیدو تمجید کرو۔اور چونکہ یہی دونوں مقصد ہیں جن کوپوراکرنے کے لئے انسان کو پیدا کیاگیا ہے اس لئے اس آیت میں یہ بشارت بھی دی گئی ہے کہ اس تعلیم پر چل کر تم اپنی پیدائش کے مقصود کو پالو گے۔دیکھو کس قدر چھوٹی سی آیت ہے اورکس طرح اس میں ان سب امور پر روشنی ڈالی گئی ہےجن کا قرآن کریم کی فضیلت کے متعلق دعویٰ کیاگیا ہے۔اس ایجاز کے ساتھ ایسی تفصیل قرآن کریم کے سوااور کسی کتاب میں نہیں پائی جاتی۔اورپھر کوئی اغلاق نہیں معمّہ نہیں مضمون صا ف ہے ہرعقلمند ایک ادنیٰ تأ مل سے حقیقت کو معلوم کرسکتا ہے۔ا ب میں آیت کے مضمون کو کسی قدر تفصیل سے بیان کرتاہوں۔یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں ہرایک چیز کے لئے ایک اثبات کاپہلو ہوتاہے اوردوسرانفی کا۔کوئی چیز مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ اس کے دونوں پہلو مکمل نہ ہوں۔یعنی جن چیزوں کا اس کی تکمیل کے لئے موجود ہوناضروری ہے وہ اس میں پائی جائیں اورجن چیزوں سے اس کی ذات میں نقص پیدا ہوتا ہوان سے و ہ پا ک ہو۔مکمل مذہبی تعلیم کے لئے تین ضروری خصوصیتیں مذہب کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل تعلیم کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔۱۔یہ کہ وہ ان باتوں کے کرنے کاحکم دے جن سے روحانیت اپنے کما ل کو پہنچ سکتی ہو اوران باتوں سے منع کرے جو اس کمال سے محروم رکھنے والی ہوں۔۲۔یہ کہ وہ ایساقانون تجویز کرتے وقت جو صرف ایک شخص یاقوم سے تعلق نہ رکھتاہو بلکہ کثیر افراد اورکثیراقوام سے تعلق رکھتاہوان تمام طبائع کا لحاظ رکھے جن کے لئے و ہ وضع کیاگیاہو۔اورایسے احکا م دے جن پر ہرشخص اپنی اپنی استعداد کے مطابق عمل کرسکے۔۳۔تیسری خصوصیت مکمل تعلیم میں یہ ہونی چاہیے کہ اس کے احکام بنی نوع انسا ن کے لئے قابل عمل ہوں