تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 166
کیا۔نیز اَلْعَدْلُ کے معنے ہیں۔ضِدُّ الْجَوْرِ۔انصاف۔اَلْعَادِلُ اَلْمَرِضِیُّ لِلشَّھَادَۃِ۔درست گواہی دینے والا۔راستباز۔اَلْعَدْلُ مِنَ الْقُضَاۃِ وَالْحُکَّامِ۔اَلْوَافُوْنَ لِلْحَقِّ فی اَحْکَامِھِمْ۔وہ حکام اورقاضی جودرست فیصلے کرنے والے ہوں۔(اقرب) اَلْاِحْسَانُ اَلْاِحْسَانُ اَحْسَنَ سے مصدر ہے اوراَحْسَنَ کے معنے ہیںاٰتَی بِالْـحَسَنِ۔پسندیدہ کام کیا۔اَحْسَنَ الشَّیْءَ جَعَلَہُ حَسَنًا۔کسی چیز کو عمدہ بنادیا۔عَلِمَہُ۔کسی چیز کوجانا۔اورانہی معنوں میں یہ فقرہ بولاجاتا ہے کہ فُلَانٌ یُحْسِنُ الْقِرَاءَ ۃَاَیْ یَعْلَمُھَا۔فلاں شخص اچھی طرح پڑھنا جانتاہے(اقرب) اَلْقُرْبیٰ: اَلْقُرْبُ فِی الرَّحْمِ۔رشتہ داری۔(اقرب) اَلْفَحْشَائُ: اَلْفَاحِشَۃُ۔سخت قباحت والاگناہ یاہر وہ بات جس سے اللہ نے روکا ہے۔اَلْبُخْلُ فِی اَدَاءِ الزَّ کٰوۃِ۔زکوٰۃ کی ادائیگی میں بخل۔(اقرب) اَلْمُنْکَرُ اَلْمُنْکَرُ اَنْکَرَ سے اسم مفعول ہے (اس کےلئے دیکھو حجرآیت نمبر۶۳)نیز اس کے معنے ہیں مَا لَیْسَ فِیْہِ رِضَی اللہِ مِنْ قَوْلٍ اَوْفِعْلٍ۔وَالْمَعْرُوْفُ ضِدُّہُ۔ناپسندیدہ بات یا فعل۔معروف اس کے مخالف معنے دیتا ہے۔(اقرب) تَذَکَّرُوْنَ:تَذَکَّرُوْنَ تَذَکَّرَسے جمع مخاطب کاصیغہ ہے اورتذکّر کے وہی معنے ہیں جو ذَکَرَ کے ہیں۔ذکر کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر۲۰۔یَتَذَکَّرُ۔تَذَکَّرَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور تَذَکَّرَ کے معنے ہیں ذَکَرَ الشَّیْءَ وَحَفِظَہُ فِی ذِھْنِہِ۔کسی چیز کو ذہن میں محفوظ کیا یعنی یاد کیا۔مَاکَان قَدْنَسِیَ۔فَطِنَ بِہٖ بھولی ہوئی بات کو بیان کیا۔اَللہ مَـجَّدَہُ وَسَبَّـحَہُ۔اللہ کی بزرگی بیان کی اور اس کی تسبیح کی۔(اقرب) تفسیر۔پچھلے رکو ع کے آخر میں دعویٰ کیاگیاتھا وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۠۔یعنی قرآن کریم ان چار خوبیوں کاحامل ہے (۱) تِبْیَانُ لِکُلِّ شَیْءٍ(۲) ھدایت(۳) رحمۃ (۴) بشریٰ للمسلمین۔اس رکوع میں اوراگلے رکوعوںمیں اس امر کاثبوت دیاگیا ہے کہ یہ چاروں امور قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اورا ن کی بناء پر قرآن کریم کے کامیاب ہونے میں کوئی شک نہیں۔سب سے پہلا ثبوت یہ آیت ہے اور میرے نزدیک اس آیت میں جومضمون بتایاگیا ہے وہی ان چاروں باتوں کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔