تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 165

اہل قرآن کو غلطی لگنے کی وجہ اہل قرآن کہلانے والوں کو اس مسئلہ میں سخت غلطی لگی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرح کے آدمی تھے ان کی بات کیوں مانیں جوقرآن کریم میں ہے وہ مانیں گے حالانکہ رسول کریم ؐ کی بات کے ماننے کاسوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ آپ ہم سے قرآن کریم کو زیادہ سمجھتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی(النجم :۴،۵)رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے متعلق جو کچھ فرماتے تھے وحی الٰہی کے مطابق فرماتے تھے غلطی نہیں کرتے تھے۔پس جس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا اس کے فہمِ قرآن کو دوسروں کے فہم پر مقد م کیا جائے گا۔ہمارایہ حق ہے کہ یہ بحث کریں کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ حدیث توصحیح ہے مگررسول کریم صلعم نے غلطی کی۔نعو ذ باللہ من ذالک قرآن کریم کی تعلیم کے بارہ میں آپؐ کی تفسیر اگر ہماری سمجھ میں نہیں آتی توبھی آپ ہی کی تفسیر کو ہمیں صحیح ماننا پڑے گا۔بشرطیکہ جس حدیث میں و ہ مذکور ہے وہ صحتِ احادیث کے اصول پر پوری اترتی ہو۔قرآن کریم کے چار کام اس جگہ قرآن کریم کے چار کام بتائے ہیں (۱)تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ہے یعنی سب ضروری امورروحانیہ کی تشریح اس میں موجود ہے (۲) ہدایت ہے (۳)رحمت ہے۔(۴)مومنوں کے لئے بشارت ہے۔اگلی آیات میں ان مطالب کی تشریح کی گئی ہے۔اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِيْتَآئِ اللہ (تعالیٰ)یقیناً عدل کا اوراحسان کا اور(غیر رشتہ داروںکوبھی)قرابت والے(شخص)کی طر ح(جاننے ذِي الْقُرْبٰى وَ يَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ١ۚ اورمدد)دینے کاحکم دیتاہے اور(ہرایک قسم کی)بے حیائی اورناپسندیدہ باتوں اوربغاوت سے روکتاہے۔وہ تمہیں يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۰۰۹۱ نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھ جائو۔حلّ لُغَات۔اَلْعَدْلُ اَلْعَدْلُ عَدَلَ کامصدر ہے اورعَدَلَ(یَعْدِلُ)فُلَانًا بِفُلَانٍ کے معنے ہیں۔سَوّٰی بَیْنَھُمَا۔دونوں کے ساتھ برابر کاسلوک کیا۔عَدَلَ الْقَاضِیْ وَالْوَالِیْ (عَدْلًا وَعَدَالَۃً)قاضی نے انصاف