تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 158
ان کے اجسام کسی زمانہ میں کیوں نہ دنیامیں رہے ہوںجمع کی جائیں گی اورہرقوم کانبی سامنے لایاجائے گااوراپنی قوم کے متعلق گواہی دےگا۔پھر کیوں یہ لوگ اس ذلت کا جو اس وقت ان کو نصیب ہوگی خیال نہیں کرتے۔ایک دوسری جگہ اس ذلت کا مندرجہ ذیل الفاظ میں ذکر فرمایا ہے فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِيْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰؤُلَآءِ شَهِيْدًا۔يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ(النساء :۴۳،۴۴)یعنی جب سب اقوام اورنبی جمع ہوں گے ا س وقت ان کو ایسی ندامت ہو گی کہ یہ خواہش کریں گے کہ زمین پھٹ جائے اورہم اس میں دفن ہوجائیں۔ہر قوم میں نبی کے مبعوث ہو نے کا ثبوت اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرقوم میں نبی مبعوث فرمائے ہیں۔قرآن کریم نے یہ عقیدہ مختلف آیات میں بیان فرمایا ہے اورا س میں وہ دوسرے سب مذاہب سے منفرد ہے اوریہ اس کی صداقت کے ثبوتوں میںسے ایک زبردست ثبوت ہے۔کافروں کو اذن نہ دیئے جانے کا مطلب یہ جو فرمایا کہ کافروں کو اس وقت اذن نہ دیاجائے گا اس کے معنے بعض نے یہ کئے ہیں کہ انہیں بولنے کا اذن نہ دیاجائے گا (تفسیر مظہری زیر آیت ھذا)۔یہ معنے درست نہیں کیونکہ قرآن کریم کی متعدد آیات سے ثابت ہے کہ کفار قیامت کو اللہ تعالیٰ سے کلام کریں گے۔اوراپنے عذرات بھی پیش کریں گے۔پس اسلَا يُؤْذَنُ سے مرا د یاتوجنت میں دخول کی اجازت ہے اوریا اس کے معنے شفاعت کے ہیں اورمراد یہ ہے کہ جب نبی حشر کے دن آئیں گے اوران کو اپنی قو م کے ان افراد کے حق میں شفاعت کی اجازت دی جائے گی جوگوپوری طرح کامل نہ ہوئے تھے مگر اس کے قابل تھے کہ نبی انہیں اپنا کہہ سکیں اس وقت یہ لوگ شفاعت سے محروم رہ جائیں گے اوران کے حق میں شفاعت کی اجازت نہ دی جائے گی۔شفاعت کے لئے اذن ضروری ہے قرآن کریم اورحدیث سے شفاعت کے متعلق ثابت ہے کہ اذن سے ہوتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَاتَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ(سبا :۲۴)یعنی شفاعت صرف انہی کوفائدہ دے گی جن کے حق میں اذن الٰہی ہوگا۔سورۃ یونس رکوع۱۔طہ رکوع ۶اورالنجم رکوع ۲ میں بھی یہ مضمون بیان ہواہے اورسور ۃبقرہ رکوع ۳۴ میں بھی۔حدیث میں بھی شفاعت کے متعلق اذن کالفظ آتاہے۔مسند احمد حنبل جلد ۵صفحہ ۴۳پر ابوبکرۃ کی روایت میں ہے ثُمَّ یُؤْذَنُ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّبِیِّیْنَ وَالشُّھَدَاءِ اَنْ یَّشْفَعُوْا۔یعنی پھر فرشتوں ،نبیوں اورشہداءکو اللہ تعالیٰ اجازت دےگاکہ وہ شفاعت کریں۔قرآن کریم میں ایک اور مفہوم بھی اس اذن کابیان ہواہے۔سورۃ المرسلات میں ہے وَلَا یُؤْذَنُ لَھُمْ