تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 157
ترتیب مضمون کے لحاظ سے اس آیت کے معنی ترتیب مضمون کو مدنظررکھتے ہوئے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ایک طرف تودنیوی نعمتوں کوتسلیم کرتے ہیں دوسری طرف روحانی نعمتوں کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔گویا اعتراف کالفظ دنیوی نعمتوں کے متعلق ہےجن کااقرار کرتے تھے اور یُنْکِرُوْنَھَا میں روحانی نعمتوں کا ذکر ہے جن کاوہ انکا ر کرتے تھے۔وَ يَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ اور(اس دن کو بھی یاد کرو)جس دن ہم ہرایک قوم میں ایک گواہ کھڑاکریں گے پھر (اس وقت )ان لوگوں کو جنہوں لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ۠۰۰۸۵ نے کفر (کاطریق)اختیارکیا ہے (عذرخواہی یاتلافی کی )اجازت نہیں دی جائے گی اورنہ (ہی)ان کاکوئی عذر قبول کیا جائے گا۔حلّ لُغَات۔شَھِیْدٌ شَھِیْدٌکے معنے ہیں اَلشَّاھِدُ۔گواہ۔اَ لْاَمِیْنُ فِیْ شَھَادَتِہِ۔ٹھیک ٹھیک گواہی دینے والا۔(اقرب) یُسْتَعْتَبُوْنَ یُسْتَعْتَبُوْنَ اِسْتَعْتَبَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اِسْتَعْتَبَہٗ کے معنے ہیں۔اَعْطَاہُ الْعُتْبیٰ۔اس سے راضی ہوگیا۔وَطَلَبَ اِلَیْہِ اَیْ مِنْہُ الْعُتْبیٰ۔اس کی رضاء چاہی۔چنانچہ کہتے ہیں۔’’اِسْتَعْتَبْتُہٗ فَاعْتَبَنِیْ‘‘اَیْ اِسْتَرْضَیْتُہٗ فَاَرْضَانِیْ میں نے اس کی خوشنودی چاہی تووہ مجھ سے خوش ہوگیا۔اورانہی معنوں میں یہ فقرہ استعما ل ہوتا ہے کہ مَابَعْدَالْمَوْتِ مُسْتَعْتَبٌ اِیْ اِسْتَرْضَاءٌ۔موت کے بعد کوئی طلب رضا نہ ہوگی۔اَلْعُتْبیٰ:اَلرِّضَا۔عتبیٰ کے معنے رضامندی (اقرب)اَلْاِسْتِعْتَابُ اَنْ یَّطْلُبَ مِنَ الْاِنْسَانِ اَنْ یَّذْکُرَ عَتْبَہُ لِیُعْتَب۔اِسْتِعْتَابٌ جو اِسْتَعْتَبَ کامصدرہے کے معنے ہیں کہ کوئی عذر بیان کرے تاکہ اس سے ناراضگی دور ہوسکے (مفردات)پس وَلَاھُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ کے معنے ہوں گے کہ ان کاکوئی عذر قبول نہ کیا جائے گا(۲)ان کو رضاجوئی کاموقعہ نہ دیاجائےگا۔تفسیر۔اس جرمِ عظیم کے ذکر کے بعدپھر اُخروی زندگی کاحوالہ دیا کہ اس دنیا میں تواس جرم کی سزاملے ہی گی مگرآخر ت میں یہ اوربھی زیاد ہ سزاپائیں گے اوروہ سزااور ذلت بہت سخت ہوگی کیونکہ تمام ارواح انسانی خواہ