تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 118
اَلِيْمٌ۰۰۶۴ عذاب(مقدر)ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْوَلِیُّ۔کے معنے ہیںاَلْمُحِبُّ وَالصِّدِیْقُ دوست اورمحبت کرنے والا۔اَلنَّصِیْرُمددگار۔وَکُلُّ مَنْ وَلِیَ اَمْرَاَحَدٍفَھُوَ وَلِیُّہُ۔جس شخص کے قبضہ میں کسی کامعاملہ ہو(اقرب) تفسیر۔تَاللہِ کے متعلق دیکھوآیت نمبر ۵۶سورۃ نحل۔آیت کامفہو م یہ ہے کہ پہلے نبیوں کے زمانے میں بھی شیطان نے انبیاء کے مخالفین کویہ تسلی دےکر گمراہ کئے رکھا تھا کہ جو ہم کررہے ہیں اس پرکوئی گرفت نہیں۔یہی حال ان کاہے یہ بھی اس قدر غلطیاں کرکے مطمئن بیٹھے ہیں اورجانتے نہیں کہ ایک درد ناک عذاب ان کی طرف بڑھ رہاہے۔وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ اورہم نے اس کتاب کو تجھ پر اسی لئے اتاراہے کہ جس (جس )بات کے متعلق انہوں نے (باہم)اختلاف الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً (پیدا)کرلیا ہے اس(کی اصل حقیقت )کوان پر روشن کرے۔اور(نیز )جو(اس پر)ایمان لائیں ان کی لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۰۰۶۵ رہنمائی کے لئے اور(ان پر )رحمت (نازل) کرنے کے لئے۔تفسیر۔کلام الٰہی کے نزول کی ضرورت یعنی کلام الٰہی کے نزو ل کی ایک اوربھی ضرورت ہے کہ دنیا میں لوگوں میں اخلاقی اورمذہبی امورکے بارہ میںشدید اختلاف پایا جاتا ہے۔یہ اختلاف بغیر اس کے کس طرح دورہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک یقینی علم حاصل ہوجائے۔پس اس علم کے دینے کے لئے یہ کتاب نازل ہوئی ہے۔اس کے سواکون سی تعلیم دنیا کے اختلاف مٹاسکتی ہے۔اگردنیا کو معلو م ہوجائے کہ یہ کلام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تب تو وہ اپنے خیالات کوچھوڑ دے گی۔ا س کے بغیر و ہ کس طرح اپنے خیالات کو چھوڑ سکتی ہے۔