تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 114

بتایاگیاہے کہ جولوگ کلام الٰہی کی ضرورت کے منکر ہوتے ہیں وہ ایسایوم آخر کے انکار کی وجہ سے کرتے ہیں۔ورنہ کوئی شخص جو یوم آخر پر ایمان لاتاہو کلام الٰہی کی ضرورت کا انکارنہیں کرسکتا۔کیونکہ ایساشخص انسانی زندگی کاسب سے اہم زمانہ اسی زمانہ کو سمجھے گا جومرنے کے بعد آنے والا ہے اور چونکہ مرنے کے بعد پھر واپس لوٹنے کی کوئی صورت نہیں وہ اُخروی زندگی کی اہمیت کوجانتے ہوئے اس ضرورت کو بھی محسوس کرے گا کہ اس عالم سے واقف ہستی کی طرف سے ہی وہ راہ بتائی جانی چاہیے۔جس پرچل کر بعد الموت زندگی اچھی گذا رسکے۔اگرصرف اس قدر کہاجاتاکہ جوکلام الٰہی کے منکر ہیں ان کی باتیں غلط ہوتی ہیں تواس سے یہ مفہوم ادانہ ہوسکتاتھا۔صفت عزیز اور حکیم سے یوم آخر کا ثبوت الْعَزِيْزُاور الْحَكِيْمُ کی صفات آخر میں اس لئے رکھی ہیں تااس طرف اشارہ ہو کہ غالب ہی اپنی طاقت کااظہار کرسکتاہے اورالحکیم ہی حکمتوں کو بیان کرسکتاہے اس لئے یقیناً اس کی تعلیم اعلیٰ ہوگی اورانسان کی نجات کاموجب ہوگی۔ورنہ جو حکیم نہیں اورعزیز نہیں وہ اول توپُرحکمت کلام نہیں کرسکتااوراگر کوئی بات کرے گاتواس کے پوراکرنے کی اس میں طاقت نہ ہوگی۔ان صفات سے یوم آخر کابھی ثبوت پیش کیااوربتایا کہ خدائے حکیم کافعل حکمت سے خالی نہیں ہوسکتااوربغیر یوم آخرت کے انسانی پیدائش ایک بے حکمت فعل رہ جاتی ہے۔اسی طرح عزیز خدا کاغلبہ کامل اس دنیا میں نہیں ہوسکتا اس کے لئے یوم آخرکی ضرورت ہے۔اگر کہو اس دنیا میں کیوں نہیں ہوسکتا توا س کا جواب صفت حکیم ہے یعنی اسی دنیا میں کامل غلبہ ظاہرہوتو ایمان فضول ہو جاتا ہے۔وَ لَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ اوراگراللہ (تعالیٰ کی یہ سنت ہوتی کہ وہ)لوگوں کو ان کے (ارتکاب )ظلم پر (فوراً)پکڑ لیتا(اورتوبہ کے لئے مہلت دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ نہ دیتا)تووہ اس (زمین)پرکسی جاندار کو(زندہ )نہ چھوڑتا مگر(اس کی یہ سنت ہے کہ )وہ (اصلاح کے لئے)انہیں اَجَلُهُمْ لَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ سَاعَةً وَّ لَا ایک معیّن وقت تک مہلت دیتا (چلاجاتا)ہے پھر جب ان(کی سزا)کا وقت آجاتاہے تووہ نہ تو ایک گھڑی پیچھے رہ