تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 113

لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ جولوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کی حالت بری ہے۔اور(ہر)اعلیٰ صفت(اورشان)اللہ(تعالیٰ)ہی الْمَثَلُ الْاَعْلٰى ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؒ۰۰۶۱ کی ہے۔اور وہی غالب (اور)حکمت والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْمَثَلُ۔لِلّٰہِ الْمَثَلُ الْاَعْلیٰ اعلیٰ صفت اورشان اللہ ہی کی ہے۔اَلْمَثَلُ کے معنے کے لئے دیکھو رعدآیت نمبر ۳۶۔اَلْمَثَلُ۔اَلشِّبْہُ۔مشابہ۔اَلنَّظِیْرُ۔نظیر۔اَلصِّفَۃُ۔بیان۔اَلْحُجَّۃُ۔دلیل۔یُقَالُ اَقَامَ لَہٗ مثلًا اَیْ حُـجَّۃً اور اَقَامَ لَہٗ مَثَلًا میں مَثَلًا دلیل کے معنی میں استعمال ہو اہے۔اَلْحَدِیْثُ۔عام بات۔اَلْقَوْلُ السَّائِرُ۔ضرب المثل۔اَلْاٰیَۃُ۔نشان۔تفسیر۔مثل کے مختلف معنوں میں سے ایک معنے بات کے بھی ہوتے ہیں۔مثلاً عرب لوگ کہتے ہیں بَسَطَ لَہٗ مَثَلًا اَیْ حَدِیْثًا(اقرب)فلاں شخص نے اس سے خوب لمبی با ت کی۔اس آیت میں مثل کالفظ انہی معنوں میں استعمال ہواہے۔اورمطلب آیت کا یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے منہ سے جب بات نکلتی ہے بری ہی نکلتی ہے اوراللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بات بتائی جاتی ہے و ہ اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔یہاں اصل مضمون جس کے بارہ میں سورت نازل ہوئی ہے کھول کربیان کردیاگیا ہے اوربتایا گیاہے کہ جولوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ کلام الٰہی کے وجود کے بھی منکر ہوتے ہیں اوراپنی ہدایت کے لئے خود قانون بناناچاہتے ہیں لیکن اس کوشش میں بری طرح ناکام رہتے ہیں اورجوبات کرتے ہیں اُلٹی ہی کرتے ہیں۔لیکن جو کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ سب عیبوں سے پاک ہوتاہے اورسب خوبیوں کاجامع ہوتاہے پھر کلام الٰہی کی ضرورت کایہ لوگ کس طرح انکار کرسکتے ہیں۔قرآن مجید کے بیان کا ایک خاص انداز اس جگہ کہا جاسکتا ہے کہ کیوں یوں نہ کہا گیا کہ جو لوگ کلام الٰہی کے منکر ہوتے ہیں وہ غلط باتیں کرتے ہیں۔یہ کیوں کہاگیا کہ جولوگ یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے غلط باتیں کرتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کاایک خاص انداز یہ بھی ہے کہ وہ ایسے طریق پر بات کرتا ہے کہ جس نقص کا وہ ذکرکررہاہو اس کے بواعث بھی وہ ساتھ ہی بیان کرتا جاتاہے۔اسی انداز کویہاں اختیار کیاگیاہے اوریہ