تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 95
اللہ علیہ وسلم) نے کبھی کوئی آیت (یعنی نشان) دکھائی ہو۔ہاں یہ دعویٰ بے شک ہے کہ دکھائیں گے (A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry ch۔2 verse 118)۔اس آیت میں اس کا کیسا کھلا جواب موجود ہے۔فرماتا ہے ہم نے ان کو نشان تو دکھایا ہے مگر یہ دیکھتے نہیں۔کیا ان کو معلوم نہیں کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے کم کرتے چلے آرہے ہیں۔یعنی سابق پیشگوئیوں کے مطابق اسلام کی فتح کے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔ہر گھر میں سیندھ لگ رہی ہے۔ان کی اولادیں مسلمان ہورہی ہیں۔اور غلام مسلمان ہورہے ہیں۔بڑے لوگوں میں سے بھی ایک حصہ ایمان لارہا ہے۔اور عوام میں سے بھی۔غرض سوسائٹی کے ہر طبقہ میں سے کچھ لوگ ایمان لارہے ہیں۔الارض سے مراد عرب بھی ہوسکتا ہے۔یعنی عرب کے اطراف میں اسلام کی اشاعت ہورہی ہے۔مثلاً یمن میں لوگ مسلمان ہورہے ہیں۔غفار میں سے ابوذرغفاریؓ ایمان لے آئے۔مدینہ منورہ میں لوگ اسلام لائے۔تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یمن میں سے بعض یہودی اور عیسائی بھی اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔نَاْتِي الْاَرْضَ سے یہ مراد بھی ہوسکتا ہے کہ ہر قسم کے کفار فنا ہورہے ہیں۔کیونکہ اتی اللہ کے معنی قرآن کریم میں سزا اور عذاب کے بھی آتے ہیں۔جیسے کہ فرماتا ہے فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا۔(الحشر:۳) اللہ تعالیٰ کفار کے پاس وہاں سے آیا جہاں سے آنے کا ان کو خیال بھی نہ تھا۔یعنی ان کو ایسی سزا دی جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔اس صورت میں یہ معنے ہوں گے کہ ان کے بڑے لوگ بھی سزا پارہے ہیں اور عوام بھی۔یا یہ کہ عرب کے چاروں گوشوں میں عذاب آرہے ہیں۔مطلب یہ کہ کفار ان امور سے نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے نشان ان میں ظاہر ہورہے ہیں اور اسلام کی ترقی کے سامان پیدا ہورہے ہیں۔وَ اللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔یعنی اصل چیز تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔جب خدا تعالیٰ اس رسول کے ساتھ ہے تو اس کے راستہ میں کون روک بن سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کے حکم کو ٹالنے کی طاقت ہی کسے ہے؟ اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ دشمن کی باتوں سے نہ گھبرائے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کوحاصل کرنے کی کوشش میں لگارہے۔وَ هُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جلدی حساب لینا شروع کردیتا ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ جب وہ حساب لینے لگے گا تو جلدی سے لے لے گا۔یوں تو وہ عذاب میں تاخیر ہی کرتا ہے مگر جب