تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 93
وَ اِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ اور جس( عذاب کے بھیجنے) کا ہم ان سےوعدہ کرتے ہیں اگر ہم اس کا کوئی حصہ( تیرے سامنے بھیج کر) تجھے دکھا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَيْنَا الْحِسَابُ۰۰۴۱ دیں(توتو بھی انکا انجام دیکھ لے گا)اور (اگر)ہم (اس گھڑی سے پہلے) تجھے وفات دے دیں (تو تجھے بعد الموت اس کی حقیقت معلوم ہو جائے گی کیونکہ )تیرے ذمہ( ہمارے حکم اور پیغام کا) صرف پہنچا دینا ہے۔اور( ان کا) حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔حلّ لُغَات۔نَتَوَفَّیَنَّکَ ہم تجھے وفات دے دیں۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حل لغات سورہ یونس آیت نمبر ۴۷۔نَتَوَفَّیَنَّ باب تفعل سے فعل مضارع ہے جس کاماخذ وَفَاۃٌ ہے۔چنانچہ کلیات ابی البقاء میں لفظ تَوَفّٰی کے ذیل میں ہے وَالْفِعْلُ مِنَ الْوَفَاۃِ اور وفات کے معنی موت کے ہیں۔(اقرب) تَوَفّٰی اللہُ زَیْدًا قَبَضَ رُوْحَہٗ۔اس کی جان نکال لی۔اسے وفات دے دی۔اس کی روح کو قبض کرلیا۔تُوُفِّیَ فُلَانٌ مَجْہُوْلًا قُبِضَتْ رُوْحُہُ وَمَاتَ۔اس کی جان نکال لی گئی اور وہ مر گیا۔فَاللہُ الْمَتَوَفِّی وَالْعَبْدُ الْمُتَوَفّٰی۔غرض ان معنوں میں اس کے استعمال کے وقت اس کا فاعل اللہ اور مفعول بندہ ہوتا ہے۔(اقرب) بَعْضُ کُلِّ شَیْءٍ کے معنے ہیں ایْ طَائِفَۃٌ مِّنْہُ ساری چیز کا ایک بڑا حصہ۔وَقِیْلَ جُزْءٌ مِّنْہُ۔اور بعض محققین کے نزدیک کسی چیز کے ایک تھوڑے سے حصے پر بھی بَعْضٌ کا لفظ بولا جاتا ہے۔وَیَجُوْزُکَوْنُہٗ اَعْظَمُ مِنْ بَقِیَّتِہٖ کَالثَّـمَانِیَۃ مِنَ الْعَشَرَۃِ۔اور بعض کا لفظ کسی چیز کے بڑے حصہ کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے جیسے دس میں سے آٹھ کو بعض کہیں۔حالانکہ آٹھ بقیہ دو سے بہت زیادہ ہیں۔(اقرب) تواِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ کے معنے یہ ہوئے کہ اگر وعدے کا کوئی حصہ ہم تجھے دکھا دیں زیادہ ہو یا کم۔تفسیر۔یعنی جب ہماری سزا کا اصول ہی اصلاح اور انصاف ہے نہ کہ غصہ نکالنا تو پھر اس پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ عذاب کی بعض پیشگوئیاں ٹل جائیں ہوسکتا ہے کہ بعض پیشگوئیاں جو عذاب کے متعلق ہیں پوری ہو جائیں اور تو انہیں دیکھ لے اور بعض ٹل جائیں۔مگر اس سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ آخری حساب تو اللہ تعالیٰ نے ہی کرنا