تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 92

دوسرے وَ يُثْبِتُ یعنے یا عذاب کو مٹا ڈالتا ہے۔عذاب دیتا ہی نہیں یا عذاب کو قائم رکھتا ہے۔مگر بغیر استحقاق کے عذاب کبھی نہیں آتا۔نہ استحقاق سے زیادہ آتا ہے۔استحقاق کی حد تک عذاب دینا یا اس سے کم دینا یہ اصول ہمیشہ آسمانی عذابوں میں مدنظر رہتا ہے اور یہی اصل ہر شخص کو مدنظر رکھنا چاہیے۔جو بااخلاق بننا چاہے۔جو لوگ غصہ کی حالت میں دشمن کو پیس کر رکھ دینا چاہتے ہیں یا عفو کرنا نہیں چاہتے وہ صفات الٰہیہ کے خلاف چلتے ہیں اور کبھی سچے مسلمان نہیں کہلا سکتے۔اُمُّ الْكِتٰبِ کے دو معنی ام کے معنے جڑ کے ہیں۔پس عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ کے دو معنے ہوں گے۔(۱)احکام کی حکمت خدا تعالیٰ کو ہی معلوم ہے اس لئے اس کی ہدایت سے تم صحیح راستہ معلوم کرسکتے ہو۔انسان اپنی ذاتی اغراض اور نفسانی خواہشات کے اثر کے نیچے کبھی بھی اس قدر بلند نہیں ہوتا کہ تمام عالم کی ضرورت کو مدنظر رکھ سکے۔وہ جو احکام تجویز کرتا ہے نفسانیت سے ملوث ہوتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی نظر سب عالم کی ضرورت اور آئندہ نتائج پر بھی ہوتی ہے۔اس لئے اس کا حکم کامل اور صحیح ہدایت کے مطابق ہوتا ہے۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ تمام احکام شریعت صفات الٰہیہ پر مبنی ہیں پس شریعت کی جڑ گویا خدا تعالیٰ کے پاس ہوئی۔کیونکہ شریعت کے احکام اسی کی صفات کی شاخیں ہیں۔اس میں یہ لطیف نکتہ بیان کیا ہے کہ اخلاق کامل اللہ تعالیٰ کی صفات کی کامل اتباع اور پوری نقل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتے۔جو شخص اچھے یا برے اخلاق کی تشریح انسانی اعمال کو سامنے رکھ کر کرنا چاہے کامیاب نہ ہوگا۔نیکی کی تعریف نیکی کی تعریف یہی ہے کہ صفات الٰہیہ کی نقل ہو۔اور بدی کی تعریف یہی ہے کہ صفات الٰہیہ کے مخالف ہو۔اس تعریف سے وہ سب مشکلات حل ہوجاتی ہیں جو فلسفیوں کو نیکی اور بدی کی تعریف کرنے میں پیدا ہوتی ہیں۔تیسرے معنے یہ ہیں کہ چونکہ احکام کا مقصد اسی کو معلوم ہے اس لئے سزا اسی کے اختیار میں ہونی چاہیے۔کئی شدید دشمن بعد میں ایمان لے آتے ہیں۔جیسے اسلام میں عکرمہؓ۔خالدؓ اور عَمروؓ بن عاص کے وجود ہیں۔ا للہ تعالیٰ ہی جانتا تھا کہ باوجود اسلام کی مخالفت کے وہ لوگ عذاب سے بچانے کے قابل ہیں کیونکہ کسی دن اسلام کی عظیم الشان خدمات کا موقع پائیں گے۔