تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 81

کو اپنا شریک بنایا تھا تو ان کے لئے کوئی نبی آتا اور اعلان کرتا کہ یہ خدا کے شریک ہیں یا فرشتے اترتے اور وہ اعلان کرتے۔مطلب یہ کہ بالواسطہ اعلان ہوتا یا بلاواسطہ اور یا پھر کم از کم وہ شریک خود ہی یہ اعلان کرتے کہ ہمیں خدا نے اپنا شریک مقرر کیا ہے۔مگر یہاں تو ان تینوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں۔اس لئے فرمایا کہ کیا تم اللہ کو اطلاع دیتے ہو جس بات کا اسے زمین میں علم نہیں؟ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِکے دو معنی اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ اس کے دو معنے ہیں۔(۱)اَمْ تَقُوْلُوْنَ بِظَاہِرٍ مِنَ الْقَوْلِ۔یعنی یہ بات تم صرف زبان سے کہتے ہو۔دل میں اس کے منکر ہو۔دل میں اس کی عظمت نہیں۔کیونکہ دل میں کسی چیز کی عظمت دلیل سے پیدا ہوا کرتی ہے۔معنے یہ ہوئے کہ جو کچھ کہہ رہے ہو کیا خود تمہارے دل اس کو مانتے ہیں؟ اس طرح فطرت سلیمہ سے اپیل کی جو بسا اوقات نہایت کامیاب طریقہ صداقت کی طرف لانے کا ہوتا ہے۔دوسرے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اس کی کوئی نقلی دلیل بتاؤ۔کیا کوئی خدا کا کلام یا اس کی وحی ہے جس کی بناء پر تم ایسا کہتے ہو؟ لیکن جب کوئی بھی صورت نہیں تو انہیں شریک قرار دینا کیونکر درست ہوسکتا ہے۔سَمُّوْھُمْ کہہ کر یہ بتایا تھا کہ ان بتوں میں کوئی ذاتی کمال نہیں۔اَمْ تُنَبِّئُوْنَہٗ میں عقلی دلیل اور الٰہی شہادت کی عدم موجودگی بیان فرمائی ہے اوربِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ میں نقلی دلیل کا بھی انکار کیا ہے اور فطرت کی شہادت کا بھی۔بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ۔جب انسا ن کوئی فریب کرتا ہے اور لوگوں کو دھوکا دے کر ٹھگنا چاہتا ہے تو آہستہ آہستہ وہ خود اور اس کی اولاد بھی اس فریب کا شکار ہوجاتی ہے۔زین کا محذوف فاعل خدا تعالیٰ نہیں بلکہ ان کے اپنے نفس ہیں۔یعنی پہلے تو بعض لوگ دوسروں کو لوٹنے کے لئے شرک کا ڈھکوسلا بناتے ہیں مگر آخر کار خود بھی انہیں وہ بات اچھی لگنے لگ جاتی ہے اور اولاد تو اس وہم کا بالکل ہی شکار ہوجاتی ہے۔قرآن مجید اور کمپرٹیو ریلجن کے ماہرین کا اختلاف صُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ یعنی جب وہ خدا کے تعلق کو چھوڑتے ہیں تو شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔انسان بغیر ساتھی کے نہیں رہ سکتا۔خدا کو چھوڑنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر چھوٹی چھوٹی چیزوں کا سہارا ڈھونڈنے لگتا ہے۔اور اسی طرح شرک پیدا ہوجاتا ہے۔بِئْسَ لِلظَّالِمِیْنَ بَدَلًا اس مسئلہ میں قرآن مجید اور کمپریٹوریلجن کے ماہرین کا اختلاف ہے۔قرآن مجید کہتا ہے کہ پہلے توحید تھی بعد میں شرک پیدا ہوا مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے شرک تھا آہستہ آہستہ خدا کا خیال پیدا ہوا۔اور توحید دنیا میں آئی (Encyclopedia of Religion and Ethics underword Polytheism)۔