تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 80

ورنہ وہ کیسے جانے گا کہ مریض کے موجودہ حالات میں اس کے لئے فلاں دوا ہی مفید ہے اور پھر اسے صرف عالم الغیب ہی نہیں بلکہ معلم بھی ہونا چاہیے تا وہ حکیم کے ذہن میں یا اس کی بیوی یا خود اس مریض کے ذہن میں یہ بات پیدا کرے کہ اس کو یہ چیز کھلاؤ یا تم کو یہ چیز کھانی چاہیے۔جس سے مادہ تولید درست ہوگا۔وغیرہ۔غرض جب تک تمام صفات نہ ہوں گی صرف کوئی ایک صفت کام نہ کرسکے گی۔اور اگر باقی تمام صفات بھی اس میں مان لی جائیں تو پھر خدا جیسا ایک دوسرا خدا ماننا پڑے گا۔اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دنیا کا کارخانہ ہزاروں خدا جن میں سے ہر اک آزاد طور پر اس کارخانہ کو چلاسکتا ہے مل کر چلار ہے ہیں اور یہ ایسا فضول کام ہے کہ معبود تو الگ رہا عام انسان کے بارہ میں بھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ایک پادری سے الوہیت مسیح کے متعلق سوال میں نے ایک مرتبہ ایک عیسائی سے پوچھا کہ دنیا کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ مسیح ؑ نے میں نے کہا کیا خدا میں بھی طاقت ہے کہ دنیا کو پیدا کرسکے؟ اس نے کہا ہاں۔میں نے کہا پھر کیا وہ معطل اور بے کار بیٹھا ہے؟ اس نے کہا نہیں وہ بھی پیدا کررہا ہے اور پھر یہی بات روح القدس کے متعلق کہی۔تب میں نے ان سے کہا کہ آپ کے سامنے آپ کی میز پر ایک پنسل پڑی ہے اگر آپ اپنے نوکر سے کہیں کہ یہ پنسل مجھے اٹھا دو اور وہ جاکر دواور آدمیوں کو بھی بلا لائے اور پھر تینوں مل کر اس پنسل کو اٹھا کر آپ کے سامنے لانے کی کوشش کریں تو آپ ان کو کیا سمجھیں گے؟ اس نے کہا پاگل۔میں نے کہا جب ہر ایک خدا الگ الگ دنیا کو پیدا کرسکتا تھا تو پھر یہ تین مل کر اس کام کو کیوں کررہے ہیں۔جسے ایک ہی کرسکتا تھا گھبرا کر بولا اصل میں تثلیث کا مسئلہ ایسا باریک ہے کہ انسان کی عقل میں نہیں آسکتا۔یہ سَمُّوْھُمْ والی دلیل ہی تھی کہ جسے میں نے استعمال کیا اور پادری بالکل حیران رہ گیا۔عربی محاورہ کے رو سے سَمُّوْھُمْ کے دوسرے معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کی حقیقت ہی کیا ہے۔عربی میں حقارت کے لئے کہتے ہیں۔سَمِّہٖ۔اس کا نام تو لو۔مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسی ذلیل چیز ہے کہ اس کا نام لیتے ہی تم شرمندہ ہو جاؤ گے۔ہوسکتا ہے کہ یہاں بھی ان معنوں میںسَمُّوْھُمْ کہا گیا ہو۔مطلب یہ کہ ذرا نام تو لو۔نام لیتے ہی خود ہی شرمندہ ہو جاؤ گے۔اردو میں نام لینے کی بجائے کہتے ہیں ’’منہ تو دکھا۔‘‘ اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَهٗ۠میں شرک کے خلاف دوسری دلیل اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ۔شرک کے خلاف دوسری دلیل یہ دی ہے کہ اگر کوئی خدا کا شریک ہوتا تو اس کی خبر خدا کی طرف سے آنی چاہیے تھی۔جیسا کہ ڈپٹی کمشنر گورنمنٹ مقرر کرتی ہے تو وہی اعلان کرتی ہے نہ یہ کہ ضلع کے لوگ۔یعنی اگر خدا نے ان