تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 59

دیکھ کر نیکیوں میں حصہ لیں۔ساتویں علامت۔بدی کو دور کرنے کے چار گر ساتویں علامت يَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ بیان فرمائی اور اس میں بدی کو دور کرنے کے یہ گر بتائے ہیں (۱)وہ نیک اعمال کرتے ہیں تاکہ لوگ ان کے نمونہ کو دیکھ کر بدی کو ترک کریں۔گویا کہ صرف زبانی وعظ پر بس نہیں کرتے کہ وہ اتنا مؤثر نہیں ہوتا بلکہ عملاً نیکی کا نمونہ دکھاتے ہیں اور اس طرح بدی کی جڑ کھوکھلی کرتے ہیں۔(۲)دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ وہ نیک باتوں کا وعظ کرتے ہیں اور اس طرح آپ ہی آپ برائی کا رواج مٹتا جاتا ہے یعنی فحش کی تشریحات پر اتنا زور نہیں دیتے جتنا کہ نیک اعمال کی خوبیوں پر اور اس طرح ذہنوں کو بدی سے ہٹا کر نیکیوں کی طرف پھیرتے ہیں۔(۳)تیسرے معنے یہ ہیں کہ وہ بہتر اور صالح اور مناسب موقعہ اعمال اس غرض کو مدنظر رکھ کر بجالاتے ہیں کہ تا ان کے ذریعہ بدی مٹ جائے۔تورات کے مطابق ان کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ ضرور سزا ہی دی جائے اور نہ انجیل کے مطابق ان کی یہ غرض ہوتی ہے کہ ضرور نرمی سے ہی ہر موقعہ پر کام لیا جائے اور ایک گال کے بعد دوسری گال بھی پھیر دی جائے بلکہ ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ بدی مٹ جائے۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے جو مناسب طریق ہو اسے اختیار کرتے ہیں۔اگر سزا سے بدی مٹ سکتی ہے تو وہ سزا دیتے ہیں اور سختی سے کام لیتے ہیں اور اگر نرمی اور عفو کے ساتھ بدی مٹ سکتی ہے تو اس وقت نرمی اور عفو سے بدی کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر عفو کے علاوہ احسان کی ضرورت سمجھتے ہیں تو بدی کے مقابل عفو اور احسان کے ذریعہ بدی کی جڑ کاٹ دیتے ہیں۔پس جو بدی کے مٹانے کے لئے بہتر عمل ہو اسے اختیار کرتے ہیں۔(۴)چوتھے معنے ا س کے یہ ہوسکتے ہیں کہ وہ شرارت کے مقابلہ میں شرارت سے کام نہیں لیتے۔بلکہ ہمیشہ انصاف کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ایسا نہیں ہوتا کہ وہ شرارت کے مقابلہ میں انصاف اور راستی کو چھوڑ دیں۔عُقْبَی الدَّار اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ۔عقبیٰ عام طورپر عاقبت محمودہ کے معنے میں استعمال ہوتا ہے۔یعنی اچھا انجام جس کا برا انجام ہو وہ گویا انجام ہی نہیں سمجھا جاتا۔الدار سے مراد جنت ہے کیونکہ اصل گھر وہی ہے۔یہ دنیا تو عارضی سفر ہے۔پس اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ کے معنے ہوئے کہ آخرۃ میں بہتر انجام انہیں کا ہوگا۔