تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 58

تفسیر۔اولوالالباب کی چار اور علامتیں اس آیت میں چار اور علامات اولوالالباب کی بیان فرمائی ہیں۔پہلی وجہ جو پچھلی آیات کو ملا کر چوتھی ہے یہ بتائی ہے کہ وہ لوگ اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لئے صبر کرتے ہیں جیسا کہ حل لغات سے ظاہر ہے صبر کے تین معنی ہیں۔صبر کے تین معنے (۱) گناہ سے بچنا اور جذبات کو بری راہ پر پڑنے سے روکنا (۲)نیک اعمال پر استقلال سے قائم رہنا۔(۳)جزع فزع سے بچنا۔پس اس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ چوتھی علامت عقلمندوں کی یہ ہے کہ وہ بدی سے مجتنب رہتے ہیں۔نیکی پر قائم رہتے ہیں اور جزع فزع سے رکتے ہیں اور اسی پر کفایت نہیں کرتے بلکہ اپنی نیتوں کی بھی اصلاح کرتے ہیں۔اور ان کا یہ کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوتا ہے نہ کہ کسی ذاتی یا قومی غرض کے ماتحت یا کسی طبعی نقص کے سبب۔یعنی ان کا صبر کم ہمتی یا کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔نہ اپنے ذاتی اور قومی فوائد کے حصول کے لئے ہوتا ہے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہوتا ہے۔باوجود طاقت انتقام کے وہ صبر کرتے ہیں اور اس میں ان کے مدنظر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جائے۔بدی کی طاقت رکھتے ہوئے اس سے بچنا اصل عفت ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں عفت اس شخص کی نہیں جس کے اندر گناہ کی طاقت نہیں۔عفت تو اسی کی ہے جس کے اندر بدی کی طاقت ہے اور بدی کی طاقت کے ہوتے ہوے وہ بدی سے مجتنب رہتا ہے۔جو شخص رات کے وقت ڈر کے مارے اپنے مکان سے باہر نہیں نکل سکتا وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ ڈکیتی کا مرتکب نہیں ہوتا۔ایک شخص جو کمزور اور نحیف الجثہ ہے وہ اگر ایک مضبوط آدمی سے مار کھا کر کہے کہ میں صبر کرتا ہوں تو وہ صابر نہیں کہلائے گا بلکہ بے بس کہلائے گا۔ہاں اگر وہ جرأت اور طاقت کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صبر اختیار کرتا ہے تو وہ بے شک صابر کہلانے کا مستحق ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۴۰) پانچویں علامت اقاموا الصلوٰۃ ہے پانچویں علامت اَقَامُوا الصَّلٰوةَ کی بیان فرمائی۔نمازوں کو باقاعدہ اور باشرائط ادا کرتے ہیں۔یعنے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلقات میں باقاعدگی کی عادت ہوتی ہے اور بے استقلالی ان کے اعمال میں نہیں ہوتی۔چھٹی علامت خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے چھٹی علامت یہ بتائی وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں۔پوشیدہ تو اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ تا دوسرے پر احسان نہ ہو اور علانیہ اس لئے کرتے ہیں کہ تا دوسروں کو صدقہ اور نیکی کی تحریک پیدا ہو اور دوسرے لوگ بھی انہیں