تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 2

کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کا اعلان جو پہلی تین سورتوں میں کیا گیا ہے وہ کس رنگ میں پورا ہوگا؟ کون سے ذرائع سے کام لے کر دوسرے مذاہب پر اور اپنی قوم پر ان کو غلبہ دیا جائے گا؟ سورۃ کے مضمون کا خلاصہ اس سورۃ کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ غیرمرئی سامانوں سے کام لیتا ہے۔انسان کو علم صرف نتائج کے ظہور پر ہوتا ہے۔بظاہر ایک ہی قسم کی زمین ہوتی ہے اور ایک ہی قسم کا پانی مگر پھل مختلف ہو جاتے ہیں۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہر پر قیاس نہ کرو۔اس کی کامیابی پر تعجب نہ کرو۔اس کی کامیابی قابل تعجب نہیں بلکہ ایسے وقت میں رسول نہ آتا تو قابل تعجب ہوتا۔پھر بتایا کہ کامیابی کیسے ہوگی اور دشمنوں کی تباہی کیسے؟ اور بتایا کہ ان کی اولادیں مسلمان ہو جائیں گی۔بڑے بڑے لوگوں سے اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت واپس لے لے گا۔ا ور ان کا رعب جاتا رہے گا۔قوانین قدرت اللہ تعالیٰ کے تابع ہیں وہ قانون قدرت کے ہر ایک شعبہ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں لگا دے گا۔تم جن کو پوجتے ہو وہ بے بس ہیں۔وہ تمہاری نصرت نہ کریں گے۔اس کو ایسی روحانی طاقتیں ملی ہیں کہ یہ اکیلا ہی جیت سکتا ہے۔جیسے ایک بینا بہت سے اندھوں پر غالب آجاتا ہے۔اس کی توحید کی تعلیم کے مقابلہ میں تمہارے شرک کی تعلیم کیسے ٹھیر سکتی ہے؟ جس طرح کہ سیلاب یا پگھلے ہوئے سونے چاندی پر جھاگ بالا بالا دکھائی دیتی ہے اور نادان خیال کرتا ہے کہ شاید یہ جھاگ ہی جھاگ ہے وہی حال آپ کے دشمنوں کا ہے وہ اوپر کی جھاگ کو دیکھتے ہیں نیچے کے سیلاب یا سونے کو نہیں دیکھتے حالانکہ قانونِ قدرت کے مطابق جھاگ ضائع ہوجانے والی چیز ہے آخر پانی یا سونا ہی رہ جاتا ہے۔پس ظاہری اور سطحی باتیں دیر تک نہیں رہ سکتیں۔اس کی ٹھوس اور مفید تعلیم ہی باقی رہ جائے گی۔اس کی تعلیم فطرت کے مطابق ہے اور آہستہ آہستہ طبعی مناسبتوں کی وجہ سے فطرتیں اسی کو قبول کریں گے۔نیز اس تعلیم پر عمل کرنے والے اور اس کے رد کرنے والوں کی حالتوں میں فرق دیکھ کر بھی لوگوں کی آنکھیں کھلیں گی۔سورۃ کا نام نیز قرآن کریم کے ذریعہ سے زبردست معجزات دکھائے جائیں گے اور دل فتح کئے جائیں گے۔ظاہری نشانات بھی ہوں گے اور باطنی بھی۔ان ظاہری نشانوں میں سے ایک یہ نشان بتایا کہ محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ والے اپنے ملک سے نکال دیں گے اور آخر تلوار کی نوبت پہنچے گی۔پہلے چھوٹی چھوٹی جنگیں ہوں گی پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ ملنا شروع ہوگا اور آخر فتح مکہ پر اس جنگ کا خاتمہ ہوگا۔یہ سب معجزات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں گے نہ محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی طاقت سے۔خدا تعالیٰ زبردست حملوں سے آپؐ کی سچائی کو ظاہر کردے گا اور اپنے سچے دین کو قائم۔اس مضمون کی مناسبت کی وجہ سے اس سورۃ کا نام رعد رکھا گیا ہے۔گویا