تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 51
فدیۃً کچھ دے کر اپنے نفوس کو چھڑانے کی کوشش کی۔جَھَنَّم۔دَارُالْعِقَاب کا نام ہے۔یہ ممنوع من الصرف ہے۔بعض کے نزدیک یہ لفظ عجمی ہے۔بعض اسے اصل میں فارسی یا عبرانی قرار دیتے ہیں لیکن یہ درست نہیں کہ عربی کے الفاظ کو غیرزبانوں کی طرف منسوب کیا جائے۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لفظ ایسے قاعدہ سے بنایا گیا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔اس وجہ سے اس کو انہوں نے غیرزبان کا قرار دے دیا۔عربی میں جَھَنَ۔جَھُوْنًا کے معنے قَرُبَ وَدَنَا کے ہوتے ہیں اوراِس سے جھنم بنا ہے یا یہ لفظ جَھَمَ سے بنا ہے۔عربی زبان میں زِیَادَۃُ نُونٍ فِیْ وَسْطِ الْکَلِمَۃِ کی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔پس جَھَمَ سے جَھَنَّمْ کا بننا خلاف قواعد نہیں اور جَھَمَ کے معنے ہیں اِسْتَقْبَلَہٗ بِوَجْہٍ مُکْفَھِرٍّ۔کہ اس کو تیوری چڑھا کر…… ملا اور تَـجَھَّمَہٗ کے معنے ہیں اِسْتَقْبَلَہٗ بِوَجْہٍ کَرِیْہٍ برے چہرے سے ملا۔(اقرب) پس جَھَنَّمَ کے معنے ہوئے ایک ناپسندیدہ جگہ جو ناراضگی سے لینے کو بڑھتی ہے۔یہ نام اُس کے شعلے مارنے کی وجہ سے رکھا گیا۔اَلْمِہَادُ۔اَلْفِرَاشُ۔بچھونا۔اَلْاَرْضُ۔زمین۔اس کی جمع اَمْھِدَۃٌ ہے۔(اقرب) تفسیر۔فرمایا جو لوگ اپنے رب کی باتوں کو قبول کریں گے ان کے لئے حُسْنٰی ہوگی یعنی ان کا انجام نیک ہوگا۔وہ دیدار الٰہی کریں گے۔انہیں کامیابی حاصل ہوگی۔اور ان کی عقلوں میں روشنی پیدا کردی جائے گی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بات کو نہ مانیں گے قرآن مجید کی اطاعت نہ کریں گے ان کی حالتیں گرتی ہی چلی جائیں گے۔یہاں تک کہ وہ ایسی مشکلات میں مبتلا ہو جائیں گے کہ اگر وہ زمین اور اس کی چیزیں اور اس کی مانند اور چیزیں فدیہ میں دے سکتے تو ضرور دے دیتے۔ان سے جو محاسبہ کیا جائے گا وہ ان کے لئے سخت تکلیف دہ ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بری اور تکلیفوں کی جگہ ہے۔سُوْٓءُ الْحِسَابِ کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے حساب میں خرابی کی جائے گی بلکہ یہ مطلب ہے کہ ان کے اعمال کے نتائج خراب نکلیں گے اور وہ ان طاقتوں کا حساب نہیں پیش کرسکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں ترقی کے لئے دیں۔مگر انہوں نے غلط استعمال سے ضائع کر دیں۔بِئْسَ الْمِهَادُ۔میں بتایا کہ اگرچہ جہنم شفاخانہ ہے اور وہاں حصول صحت کی خاطر رکھا جائے گا مگر تاہم وہ تکلیف کا مقام ہے۔خلاصہ یہ کہ مومن ترقی کرتے جائیں گے اور کافر گرتے جائیں گے اس لئے اے منکرو! تم کب تک نتائج کو دیکھ کر آنکھیں بند کئے رہو گے۔کب تک اس نبی کو نہ مانو گے؟ ایک دن دو دن جنبہ داری کرلو گے