تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 50

ایک ناصاف ڈلا بن کر رہ جاتی ہے۔تعلیم انسانی ظرف کے مطابق ہوتی ہے بِقَدَرِهَا کے الفاظ سے یہ بتایا کہ اشاعت تعلیم انسانی ظرف کے مطابق ہوتی ہے۔جس کا قلب وسیع اور سلیم ہوگا وہ زیادہ حصہ لے گا۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ قرآن کریم بدی اور نیکی کو ممتاز کرکے دکھادے گا اور جب دونوں کا فرق لوگوں پر روشن ہوجائے گا تو اچھے لوگ خود ہی بدی کو پرے اٹھا کر پھینک دیں گے اور نیکی کواختیار کرلیں گے۔لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى ١ؔؕ وَ الَّذِيْنَ لَمْ اور جنہوں نے اپنے رب کا کہا مانا ان کے لئے کامیابی( مقدر) ہے۔اور جنہوں نے يَسْتَجِيْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّ مِثْلَهٗ اس کا کہا نہیں مانا (ان کی یہ حالت ہوگی کہ )اگر جو کچھ بھی زمین میں ہے (سب) ان کے لئے ہوتا اور اس کے برابر مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ اور بھی تو وہ اسے دے کر( اپنے آپ کو )چھڑا لیتے۔ان کے لئے بہت ہی برا عذاب (مقدر) ہے وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُؒ۰۰۱۹ اور ان کا ٹھکا نہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔حلّ لُغَات۔اِسْتَجَابُوْا۔اِسْتَجَابَ سے مضارع ہے اور اِسْتَجَابَ لَہٗ وَمِنْہُ کے معنے ہیں قَبِلَ دُعَاءَ ہٗ اس کی دعا قبول کی۔(اقرب) پس اِسْتَجَابُوْا کے معنے ہوں گے بات قبول کی۔کہا مانا۔اَلْحُسْنٰی۔ضِدُّ السُّوأَی۔حُسْنٰی۔سُوْی۔یعنی برائی کے مقابل کا لفظ ہے اور اس کے معنے ہیں اَلْعَاقِبَۃُ الْحَسَنَۃُ۔اچھا انجام۔اَلظَّفَرُ کامیابی۔(اقرب) اِفْتَدَوْا۔اِفْتَدٰی سے ہے اور اِفْتَدٰی کے معنے ہیں اِسْتَنْقَذَہٗ بِمَالٍ وَقِیْلَ اَعْطٰی شَیْئًا فَاَنْقَذَہٗ۔مال یا کچھ اور بدلہ میں دے کر چھڑا لیا۔اَلْمَرْأَۃُ نَفْسَہَا مِنْ زَوْجِھَا اَعْطَتْہُ مَالًا حَتّی تَخَلَّصَتْ مِنْہُ بِالطَّلَاقِ۔عورت نے خاوند کو مال دے کر خلاصی حاصل کی اور طلاق لی (اقرب)۔پس اِفْتَدُوْا کے معنے ہوں گے انہوں نے