تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 49
ہے اور مختلف راستوں سے بہہ پڑتا ہے تو اس وقت ان گلیوں میں جو پہلے بظاہر صاف معلوم ہوتی تھیں پانی کے گزرتے وقت اس قدر جھاگ پیدا ہوتی اور میل اٹھتی ہے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے اور شروع شروع میں تو جھاگ کی اس قدر کثرت ہوتی ہے کہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا جھاگ ہی جھاگ ہے۔مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ سمٹ کر صرف کناروں پر تھوڑی تھوڑی رہ جاتی ہے اور پانی کا غلبہ ظاہر ہو جاتا ہے۔دوسری مثال یہ دی کہ زیور بنانے کے لئے یا برتن وغیرہ بنانے کے لئے معدنیات کو پگھلایا جاتا ہے تو ان کے اوپر بھی ایسی ہی جھاگ آجاتی ہے مگر سنار یا ٹھٹھیارا اس کو صاف کرلیتا ہے اور نیچے سونا یا دوسری کارآمد اشیاء ہی رہ جاتی ہیں۔حق کی مثال پانی سے اور باطل کی مثال جھاگ سے دی ہے اس جگہ پر حق کی مثال پانی سے اور باطل کی مثال جھاگ سے دی ہے جو حق پر غالب نظر آتی ہے۔یعنی ابتداءً لوگ باطل کی کثرت اور غلبہ کو دیکھ کر خیال کرتے ہیں کہ اسی کا زور دنیا میں ہے مگر انجام کار جھاگ مٹ جاتی ہے اور اصل پانی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔حق کی مثال سونے سے یا دوسری معدنیات سے اسی طرح حق کی مثال سونے یا دوسری معدنیات سے دی ہے کہ جن کو پگھلانے پر کچھ میل نکلتی ہے لیکن اس میل کو پھینک دیا جاتا ہے اور صرف معدن کو الگ نکال کر رکھ لیا جاتا ہے۔کفار کو بتایا کہ بے شک تم اس وقت جھاگ کی طرح اٹھ رہے ہو اور غالب نظر آتے ہو اور اسلام کا سونا تمہارے نیچے دبا ہوا نظروں سے اوجھل ہورہا ہے مگر جب ہماری نصرت کی ہوائیں چلیں گی تو جھاگ ہی کی طرح بیٹھ جاؤ گے۔اور حق کا غلبہ نظر آئے گا اور صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہی باقی رہ جائے گی۔یا اس کا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ فطرت انسانی کو تو اللہ تعالیٰ نے پاک بنایا ہے لیکن اس میں رسم و رواج کا گند مل کر اسے خراب کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے ذریعہ سے پھر فطرت کے پاک تقاضوں کو جگا دیتا ہے اور طبائع میں ایک ایسا جوش پیدا کر دیتا ہے کہ جس طرح تیز بھٹی یا بڑھتے ہوئے سیلاب میں ہوتا ہے اس ہیجان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طبائع کا جمود جاتا رہتا ہے۔ایک طرف فطرت میں بیداری پیدا ہوجاتی ہے۔دوسری طرف رسوم و عادات کی محبت میں جوش آتا ہے اس حرکت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بجائے فطرت صحیحہ اور رسوم و عادات کے ایک ملے جلے ڈلے کے یہ دونوں چیزیں الگ الگ ہو جاتی ہیں اور انسان کچھ عرصہ کے لئے دو متضاد جذبات کا حامل ہو جاتا ہے۔آخر جس کی فطرت زیادہ پاک ہوتی ہے وہ رسوم و عادات کی میل کو باہر نکال کر پھینک دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔اور جو سچی کوشش نہیں کرتا اس کی طبیعت پھر ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور پھر رسوم و عادات کی جھاگ فطرت کے سونے سے مل کر پہلے کی طرح