تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 1

سُوْرَۃُ الرَّعْدِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ ر عد۔یہ سورۃ مکی ہے۔وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ اَرْبَعٌ وَّ اَرْبَعُوْنَ اٰیَةً وَ سِتَّةُ رَکُوْعَاتٍ اور بسم اللہ سمیت اس کی چوالیس آیتیں ہیں اور چھ رکوع ہیں سورۃ کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف سورۃ رعد کی نسبت حسن ،عکرمہ ،ابن جبیر کی تحقیق ہے کہ یہ ساری مکّی ہے۔عطاء کا قول ہے کہ سب مکّی ہے۔سوائے وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا والی آیت کے۔بعض اور علماء کے نزدیک سب مکّی ہے سوائے هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ والی آیت کے جو لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ والی آیت تک ختم ہوتی ہے۔قتادہ سے بھی ایک روایت میں ہے کہ سب سورہ مکی ہے سوائے وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا والی آیت کے۔حضرت علیؓ سے بھی یہی مروی ہے کہ یہ مکی ہے لیکن کلبی مقاتل اور ابن عباسؓ کا قول ہے کہ یہ مدنی ہے اور قتادہ سے بھی ایک روایت میں اس کا مدنی ہونا مروی ہے۔قاضی منذر بن سعد کی بھی یہی تحقیق ہے حضرت ابن عباسؓ تین آیتوں کو بیچ میں سے مکی قرار دیتے ہیں۔(۱و۲) وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ سے شروع کرکے دو آیتیں اور (۳) وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔الآیۃ۔سورۃ کے مضامین اس کے مکی ہونے پر دلالت کرتے ہیں عام محققین کا رجحان اس کے مکی ہونے کی طرف ہی ہے۔اور اس کے مضامین اس کے مکی ہونے پر ہی دلالت کرتے ہیں۔مدنی ہونے کا خیال پیدا ہونے کی وجہ اور غالباً اس کے مدنی ہونے کا خیال اس کی بعض آیتوں کی وجہ سے جو مدنی ہیں پیدا ہوا ہے۔اس کے بارہ میں اکابر صحابہ میں سے صرف ایک کی شہادت ہے یعنے حضرت علی کی۔اور وہ اسے مکی قرار دیتے ہیں۔پس جبکہ اس کے مضامین بھی اس امر کے مؤید ہیں اس کا مکی ہونا یقینی ہے۔حضرت ابن عباسؓ چونکہ رسول کریمؐ کے زمانہ میں بچے تھے ان کی رائے حضرت علی کی شہادت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق یہ ہے کہ سورۃ یونس میں بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے زمانہ میں دنیا کو دو طرح ہدایت کی طرف لاتا ہے۔(۱) سزا سے اور (۲) رحم سے۔اس کے بعد سورہ ہود میں سزا کے پہلو پر زور دیا اور سورہ یوسف میں رحم کے پہلو پر روشنی ڈالی گئی۔اس سورۃ میں اس امر پر بحث