تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 40
ظِلّ کے معنے ہیں مَایُرٰی مِنَ الْجِنِّ وَغَیْرِہٖ۔بھوت وغیرہ۔اَلْعِزُّ۔عزت۔اَلْمَنَعَۃُ۔غلبہ اَلرَّفَاھَۃُ۔خوشحالی۔اَللَّیْلُ اَوْجُنْحُہٗ اَوْ سَوَادُہٗ۔رات یا رات کا حصہ یا اس کی سیاہی مِنْ کُلِّ شَیْءٍ شَخْصُہٗ اَوْ کِنُّہٗ۔ہر حیوان کا جسم یا ہر چیز کا وہ حصہ جو اس کے مغز کی حفاظت کرتا ہے اور اس کو بیرونی اثرات سے حفاظت میں رکھتا ہے۔مِنَ الشَّبَابِ اَوَّلُہٗ جوانی کا ابتداء وَفِی الْاَسَاسِ وَکَانَ ذَالِکَ فِیْ ظِلِّ الشِّتَاءِ اَیْ فِیْ اَوَّلِ مَاجَاءَ۔اور اساس میں ظِلّ کے لفظ کے ماتحت لکھا ہے کہ ظِلُّ الشِّتَاءِ کے معنے ہیں موسم سرما کا ابتدا۔وَمِنَ الْقَیْظِ شِدَّتُہٗ۔گرمی کے لئے آئے تو اس کے معنی ہیں۔اس کی شدت۔تَقُوْلُ سِرْتُ فِیْ ظِلِّ الْقَیْظِ۔اَیْ فِیْ شِدَّتِہٖ۔یَعْنِی سِرتُ فِیْ ظِلّ الْقَیْظِ کے معنے ہوں گے میں تیز گرمی میں چلا۔وَمِنَ السَّحَابِ مَاوَارَی الشَّمْسَ مِنْہُ اَوْسَوَادُہٗ۔بادل کا وہ حصہ جو سورج کو ڈھانپ لیتا ہے۔یا اس کا سایہ۔مِنَ النَّہَارِ لَوْنُہٗ اِذَا غَلَبَتْہُ الشَّمْسُ۔چمکتی ہوئی دھوپ (اقرب) ھُوَ فِی ظِلِّہٖ۔أَیْ کَنَفِہٖ۔اور ھُوَ فِیْ ظِلِّہٖ کے معنے ہیں وہ اس کی حفاظت میں ہے۔اس کے علاوہ ظِلَالُ۔ظُلَّۃٌ کی بھی جمع ہے جس کے معنی ہیں اَلْغَاشِیَۃُ۔ڈھانپنے والی چیز۔سائبان۔وَالْبُرْطُلَّۃُ اَیْ اَلْمِظَلّۃُ الضَّیِّقَۃُ۔چھوٹا سائبان چھتری۔وَفِیْ الْتَعْرِیْفَاتِ اَلظُّلَّۃُ ھِیَ الَّتِیْ اَحَدُ طَرَفَیْ جِذْعِہَا عَلَی حَائِطِ ھٰذِہِ الدَّارِ وَطَرَفُہَا الْاٰخَرُ عَلٰی حَائِطِ الْجَارِ الْمُقَابِلِ اور تعریفات میں ہے کہ ظُلَّۃٌ اس چھپر کو کہتے ہیں کہ جس کو راستہ پر سایہ کے لئے ڈالا جاتا ہے اور اس کا ایک کنارہ ایک گھر کی ایک دیوار پر ہو اور دووسرا کنارہ سامنے کی دیوار پر ہو۔اَوَّلُ سَحَابَۃٍ تُظِلُّ۔موسم کا سب سے پہلا سایہ کرنے و الا بادل۔مَااَظَلَّکَ مِنْ شَجَرٍ۔جو درخت سایہ دے۔شَیْءٌ کَالصُّفَّۃِ یُسْتَتَرُ بِہِ مِنَ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ۔ایسا چھپر جو سردی اور گرمی سے بچاؤ کے لئے بنایا گیاہو۔(اقرب) اور مجمع البحار میں ہے اَلظِّلُّ۔اَلْفَیْءُ الْحَاصِلُ مِنَ الْحَاجِزِ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الشَّمْسِ مُطْلَقًا سورج اور انسان کے درمیان کسی روک کے آنے کی وجہ سے جو سایہ ہوتا ہے ظل کہلاتا ہے۔وَمِنْہُ سَبْعَۃٌ فِیْ ظِلِّ الْعَرْشِ اَیْ فِیْ ظِلِّ رَحْمَتِہٖ۔اور حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے دن سات شخص عرش کے سایہ تلے ہوں گے یعنی اس کی رحمت کے سایہ میں ہوں گے۔وَجَاءَ سَبْعَۃٌ فِیْ ظِلِّہٖ اَیْ فِیْ ظِلِّ اللہِ اور بعض حدیثوں میں سَبْعَۃٌ فِیْ ظِلِّہٖ آیا ہے کہ وہ اللہ کے سایہ میں ہوں گے۔کہتے ہیں ھُوَ فِی عَیْشٍ ظَلِیْلٍ وَالْمُرَادُ ظِلُّ الْکَرَامَۃِ وہ خوب مزے کی زندگی بسر کررہا ہے۔وَقَدْ یُکْنٰی مِنَ الْکَنَفِ۔اور کبھی اس سے مراد حفاظت بھی لی جاتی ہے۔وَفِی الْحَدِیْثِ اَلْکَافِرُ یَسْجُدُ لِغَیْرِاللہِ وَظِلُّہٗ یَسْجُدُلِلہِ اَیْ جِسْمُہٗ۔یعنی حدیث میں ہے کہ کافر غیراللہ کے لئے سجدہ کرتا ہے اور اس کا سایہ یعنی جسم خدا تعالیٰ کے لئے۔(مجمع البحار) اور مفردات راغب میں ہے اَلظِّلُّ ضِدُّ الضِّحِّ۔ظِلّ