تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 36

تدابیر باریک در باریک اور مضبوط ہوا کرتی ہیں اور پھر ان کے نتائج بھی بہت سخت نکلا کرتے ہیں۔لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا نہ ٹلنے والا بلاوا اسی کا ہے اور جنہیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان( کی دعا) کا کوئی جواب نہیں دیتے (ہاں) مگر يَسْتَجِيْبُوْنَ۠ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَآءِ اس (شخص) کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلارہا ہو لیکن وہ (یعنی پانی) اس تک کبھی نہ پہنچے گا اور لِيَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ۰۰۱۵ کافروں کی (چیخ و) پکارضائع ہی جائے گی۔حلّ لُغَات۔دَعْوَۃٌ۔دَعَا کا مصدر ہے اور دَعَا فُلَانًا دَعْوَۃً کے معنے ہیں طَلَبَہٗ لِیَأْکُلَ عِنْدَہٗ۔کہ اسے کھانے پر بلایا۔پس دَعْوَۃٌ کے معنے ہوں گے ’’بلاوا‘‘۔(اقرب) اَلحَقَّ۔اَلْحَقُّ۔حقَّ کا مصدر ہے۔اور حَقَّہٗ حَقًّا کے معنے ہیں غَلَبَہٗ عَلَی الْحَقِّ۔حق کی وجہ سے اس پر غالب آیا۔وَالْاَمْرَ: اَثْبَتَہٗ وَاَوْجَبَہٗ۔کسی امر کو ثابت کیا اور واجب کیا۔کَانَ عَلٰی یَقِیْنٍ مِنْہٗ۔کسی معاملہ پر یقین سے قائم تھا۔الخَبَرَ۔وَقَفَ عَلَی حَقِیْقَتِہِ اور حَقَّ الْخَبَرَ کے معنے ہوں گے اس کی حقیقت سے آگاہ ہوا اور اَلْحَقُّ کے معنے ہیں ضِدُّ الْبَاطِلِ سچ۔الأَمْرُ الْمَقْضِیُّ فیصلہ شدہ بات۔اَلْعَدْلُ۔عدل۔اَلْمِلْکُ۔ملکیت۔اَلْمَوْجُودُ الثَّابِتُ۔موجود و قائم۔اَلْیَقِیْنُ بَعْدَ الشَّکِّ۔یقین۔اَلْمَوْتُ۔موت اَلْحَزْمُ دانائی۔(اقرب) پس لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ کے معنے ہوں گے (۱)سچائی کی تائید میں اٹھنے والی آواز صرف خدا ہی کی ہوتی ہے۔(۲) خدا تعالیٰ ہی کی آواز ضرور غالب ہوکر رہتی ہے۔(۳)جو پکارنا فائدہ مند ہوسکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے حضور پکارنا ہے۔(۴)وہی پکارے جانے کا مستحق ہے۔(۵)تقدیر کا ٹلانا اسی کا کام ہے۔یَسْتَجِیْبُوْنَ۔اِسْتَجَابَ سے ہے اور اِسْتَجَابَ کے معنے ہیں رَدّلَہُ الْجَوَابَ۔اس کو جواب دیا۔اور لَایَسْتَجِیْبُوْنَ کے معنے ہوئے وہ جواب نہیں دیتے۔(اقرب) ضَلَالٌ ضَلَالٌ ضَلَّ کا مصدر ہے اور ضَلَّ عَنِّیْ کَذَا کے معنے ہیں ضَاعَ۔ضائع ہو گیا۔فُلَانٌ الْفَرَسَ