تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 35

تدبیر۔اَلْمَکْرُ۔تجویز۔اَلْقُدْرَۃُ۔طاقت۔اَلْجِدَالُ۔جھگڑا۔اَلْعَذَابُ۔عذاب۔اَلْعِقَابُ۔سزا۔اَلْعَدَاوَۃُ۔دشمنی۔اَلْقُوَّۃُ وَالشِّدَّ ۃُ۔طاقت و رعب۔اَلْھَلَاکُ۔ہلاک ہونا۔اَلْاِھْلَاکُ۔کسی کو ہلاک کرنا۔(اقرب) بعض نے مِحَالٌ کو حَوْلٌ اور حِیْلَۃٌ سے مشتق قرار دیا ہے۔(مفردات) پس هُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ کے معانی ہوں گے کہ اللہ کی تدبیر بڑی سخت ہے۔اس کی پوشیدہ تدبیریں کارگر ہوکر رہتی ہیں۔اس کی قدرت بھاری ہے۔جب وہ بندوں کے حقوق دلواتا ہے تو اس کی سزا سخت ہوتی ہے۔جب اس کی طرف سے ہلاکت آتی ہے تو سخت ہوتی ہے۔تفسیر۔فرمایا تم مسلمانوں کو مصائب اور آفات کا شکار دیکھ کر خوش ہوتے ہو۔کہ یہ بجلیاں انہیں تباہ کر دیں گی مگر تم اس میں دھوکا کھارہے ہو۔نہ بجلی ہر حالت میں اور ہر شے کے لئے ہلاکت کا موجب ہوتی ہے اور نہ بادل ہر حالت میں اور ہر شئے کے لئے فائدہ کا موجب ہوتا ہے۔مصائب مومن کے لئے تباہی کا موجب نہیں ہوتے بلکہ ترقی کا۔وہ اس کی چھپی ہوئی طاقتوں کو ابھارنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں وہ اس کے حوصلوں کو بلند کردیتے ہیں۔وہ اسے اپنے رب کے اور بھی قریب کردیتے ہیں۔آخر کڑک اور بجلی بھی تو خدا تعالیٰ کی مخلوق ہے وہ اس کے مخلص بندوں کی تباہی کا موجب کس طرح ہوسکتی ہے؟ وہ کوئی ایسا کام نہیں کرسکتی جس سے خدا کی ذات پر عیب لگتا ہو۔وہ بھی خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔اگر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گر کر ان کو تباہ کر دے (نعوذباللہ) تو خدا تعالیٰ کی ذات پر اعتراض آتا ہے پس جس کے ساتھ خدا ہو وہ اس کا تو بھلا ہی کرے گی۔اگر گرے گی تو وہ تم پر ہی گرے گی۔فرشتے بھی اس کے خوف سے تسبیح کررہے ہیں۔یعنی رعد خود تو کوئی چیز نہیں۔فرشتے بھی جو پہلا سبب ہیں اور سب اسباب ان کے اشارہ پر نتائج ظاہر کرتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہیں۔جس کےساتھ خدا تعالیٰ ہوگا سب سامان اس کے فائدہ کے نتائج پیدا کر یں گے پس جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہوگا دنیا کے سامان بھی خواہ کسی صورت میں ظاہر ہوں آخرکار اس کے فائدے کے نتائج پیدا کریں گے۔وَ يُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَآءُ وَ هُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ۔یعنی تم کو غور کرنا چاہیے کہ یہ چمکنے والی بجلیاںکن پر گر سکتی ہیں۔خدا جو ان کو گرانے والا ہے کیا ان پر گرائے گا جو اس کی تائید میں کھڑے ہوئے ہیں۔یا ان پر جو اس کے متعلق جھگڑ رہے ہیں۔اور اس کے دین کی مخالفت میں کھڑے ہیں؟ ظاہر ہے کہ وہ انہی پر گرائے گا جو اس کے مخالف ہیں۔وَ هُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ کہہ کر اس بات کو صاف طور سے بتا دیا کہ یہ عام قانون قدرت کا ذکر نہیں ہورہا بلکہ دشمنانِ اسلام اور خدا تعالیٰ کے بارہ میں جھگڑنے والوں کے لئے ایک سخت عذاب کی پیشگوئی ہے۔شدید المحال کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اللہ سے جھگڑا کرنا آسان نہیں کیونکہ اس کی