تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 34

قوموں کی ترقی اور تنزل کی ایک لطیف مثال اس لئے وہ ان سامانوں کو نہ دیکھیں جو ان کے پاس ہیں بلکہ اپنے دل کی حالت کو دیکھیں اگر دل خراب ہوچکے ہیں تو ظاہری سامان ترقی کا نہیں تنزل کا موجب ہوں گے۔یہ ایک اتنا لطیف اور وسیع مضمون ہے کہ اس کے ذریعہ سے قوموں کے تنزل اور ترقی کے اسباب پر ضخیم مجلدات لکھی جاسکتی ہیں۔وَ يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ١ۚ وَ اور کڑک اس کی تعریف کے ساتھ (ساتھ) اس کی پاکیزگی کا اظہار بھی کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف کے يُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَآءُ وَ هُمْ سبب سے( ایسا ہی کرتے ہیں) اور وہ گرنے والی بجلیاں بھیجتا ہے۔پھر جن پر چاہتا ہے انہیں نازل کر تا ہے اور وہ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِؕ۰۰۱۴ اللہ کے بارہ میں جھگڑ رہے ہیں حالانکہ وہ سخت عذاب دینے والا ہے۔حلّ لُغَا ت۔یُسَبِّحُ۔سَبَّحَ ماضی سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور سَبَّحَ اللّہَ کے معنے ہیں نَزَّھَہٗ کہ اللہ کی پاکیزگی کا اظہار کیا اور کبھی سَبَّحَ کے ساتھ ل کا صلہ لا کر بھی اس کو متعدّی بنایا جاتا ہے۔(اقرب) اور یُسَبّحُ الرَّعْدُ کے معنے ہوں گے کہ کڑک اللہ کی پاکیزگی کا اظہار کرتی ہے۔اَلرَّعْدُ۔رَعَدَ کا مصدر ہے اور رَعَدَ السِّحَابُ کے معنے ہیں صَاتَ وَضَجَّ لِلْاِمْطَارِ۔بادل برسنے کے لئے گرجا اَلرَّعْدُ کے معنے ہیں صَوْتُ السَّحَابِ بادل کی آواز، کڑک۔(اقرب) اَلصَّوَاعِقُ۔صَاعِقَۃٌ کی جمع ہے اور صَاعِقَہ کے معنی ہیں اَلْمَوْتُ۔موت کُلُّ عَذَابٍ مُھْلِکٍ۔ہر مہلک عذاب۔صَیْحَۃُ الْعَذَابِ۔عذاب کی آواز۔نَارٌ تَسْقُطُ مِنَ السَّمَآءِ فِیْ رَعْدٍ شَدِیْدٍ لَا تَـمُرُّ عَلَی شَیْءٍ اِلَّا اَحْرَقَتْہُ۔وہ آگ جو بادل سے کڑک کے ساتھ نازل ہوتی ہے اور جس چیز پر گرے اسے جلادیتی ہے۔(اقرب) اَلْمِحَالُ۔مَاحَلَ کا مصدر ہے اور مَاحَلَہٗ کے معنی ہیں۔مَاکَرَہٗ وَکَایَدہٗ۔کسی کی تدبیر کے خلاف تدبیر کی۔عَادَاہُ۔بالمقابل دشمنی کا اظہار کیا۔قَاوَاہُ۔کسی کے بالمقابل قوت و غلبہ کااظہار کیا۔اور اَلْمِحَالُ کے معنی ہیں۔اَلْکَیْدُ۔تدبیر۔رَوْمُ الْاَمرِ بِالْحِیَلِ۔حیلوں کے ذریعوں سے کسی کام کے کرنے کا قصد کرنا۔اَلتَّدْبِیْرُ۔