تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 33
بَدَأَ بِنَاءَھَا مکان کے بنانے کی ابتداء کی۔زَیْدٌ أَنْشَدَ شِعْرًا اَوْ خَطَبَ بِخُطْبَۃٍ فَاَحْسَنَ فِیْھِمَا۔زید نے اچھی طرح شعر کہے اور لیکچرار نے بلند پایہ تقریر کی۔(اقرب) پس يُنْشِئُ السَّحَابَ کے معنے ہوں گے (۱)بادلوں کو بناتا ہے۔بادلوں کو اٹھاتا ہے۔السَّحَابَ۔اَلْغَیْمُ کَانَ فِیْہِ مَاءٌ اَوْلَمْ یَکُنْ فِیْہِ۔السَّحَاب۔سَحَابَۃٌ کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں بادل۔خواہ وہ برسنے والا ہو یا نہ ہو۔اَلْوَاحِدَۃُ سَحَابَۃٌ۔یہ اسم جنس ہے۔مفرد اور جمع دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔اَلسَّحَابُ الْمُسَخَّرُ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ میں واحد ہے اور وَیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِقَال میں جمع۔ثِقَالٌ کا لفظ ثَقِیْلٌ (بھاری) کی جمع ہے جو خفیف (ہلکے) کی ضد ہے۔(اقرب) تفسیر۔بجلی کی چمک میں خوف اور فوائد۔برق سے لوگوں کے لئے خوف اور طمع دونوں پیدا ہوتے ہیں۔خوف اس لئے کہ بجلی گر کر ہلاک نہ کردے اور طمع اس لئے کہ عام طورپر بجلی زیادہ تبھی چمکتی ہے جب بادل زیادہ برسنے والا ہوتا ہے۔اگرچہ ہمارے ملک میں بھی مشہور ہے کہ جو ’’گرجتے ہیں برستے نہیں‘‘ مگر وہ خاص قسم کی گرج ہوتی ہے۔علاوہ ازیں بجلی کی چمک سے رحم مادر میں بچوں کو اور ایسا ہی بعض پودوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔مگر ساتھ ہی اس کی چمک سے کئی بیماریو ںکے کیڑے ہلاک ہو جاتے ہیں۔وبائیں دور ہوجاتی ہیں۔گویا بجلی کی چمک میں خوف بھی ہے اور فوائد بھی۔یہی حال بھاری بادلوں کا ہوتا ہے۔کبھی وہ رحمت بن کے دنیا کی آبادی کا باعث ہو جاتے ہیں اور کبھی وہی زحمت بن جاتے ہیں اور فصلوں کو برباد اور شہروں کو غرق کر دیتے ہیں۔اس مثال سے بتایا ہے کہ ایک ہی چیز بعض کی تباہی کا اور بعض کی ترقی کا موجب بن جاتی ہے۔بجلی چمکتی ہے، بادل آتے ہیں۔ان سے کئی تباہ ہو جاتے ہیں اور کئی بے شمار فوائد حاصل کرتے ہیں۔پس ظاہر ہے کہ اچھے یا برے نتائج صرف کسی چیز کے اچھے یا برے ہونے سے متعلق نہیں بلکہ اس تعلق سے متعلق ہیں۔جو اس چیز کو کسی دوسری چیز سے جاکر پیدا ہوتا ہے۔مثلاً کوئی پوچھے کہ بھاری بادل اچھے ہوتے ہیں یا کہ نہیں۔تو اس کا کوئی جواب نہیں دیا جاسکتا۔تاوقتیکہ موقع و حالات کو نہ دیکھ لیا جائے۔جب بارش آتی ہے تو جس کی عمارت بن رہی ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ اگر بارش آگئی تو میں تباہ ہو جاؤں گا مگر اسی وقت زمیندار جس کا کھیت خشک سالی کی و جہ سے تباہ ہورہا ہوتا ہے کہتا ہے کہ اگر بارش نہ ہوئی تو میں برباد ہو جاؤں گا۔پس فرمایا کہ چند دن کا فائدہ یا ضرر نسبتی امر ہے۔پس کفار کو ظاہری سامانوں پر گھمنڈ نہ کرنا چاہیے۔مال رشتہ دار اور حکومتیں ہر اک کے لئے اچھی ہی نہیں ہوتیں۔یہ اگر ایک کو بچا لیتی ہیں تو دوسرے کو تباہ کر دیتی ہیں۔