تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 360
ختم نہ ہو۔بلکہ اس نظام کی عظمت کے مطابق ایک بڑے زمانہ تک چلی جائے جس میں وہ ایک ایسے اعلیٰ مقام کوپالے جو اس نظام کی عظمت کے مطابق ہو۔پیدائش دنیا قیامت کی دلیل ہے اگرغورکیا جا ئے توسارانظام توالگ رہا۔اللہ تعالیٰ نے چھوٹی سے چھوٹی چیزمیں ہی ایسے اسرار رکھے ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آتے۔انسانی جسم کوہی لے لو اس کانظام کیسا پیچیدہ ہے۔ہزاروں لاکھوں اطباء اورعلم تشریح کے ماہر اس کی حقیقت کومعلوم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔لیکن اب تک ان امور کا احاطہ نہیں کرسکے جو جسم انسانی سے تعلق رکھتے ہیں۔قرآن کریم کے نزول کے زمانہ کے بعد تویورپ نے سائنس میں بے انتہاکما ل حاصل کیا ہے۔مگر اب تک انسانی جسم کے متعلق پورا احاطہ نہیں کرسکا۔پھر اس قدر وسیع قوانین پر جس وجود کی بنیاد رکھی گئی ہے اس کی پیدائش کے مقصد کو اس قدر حقیر بتانا جیساکہ قیامت کے منکر بتاتے ہیں کس طرح معقول سمجھاجاسکتاہے۔اسی طرح یہ نظام انبیاء کی کامیابی اوران کے دشمنوں کی تباہی پر بھی دلالت کرتاہے۔زمین کو آسمان سے جدا کردو۔پھر اس کی کیاحالت ہوجاتی ہے۔ایک دن بھی نہیں ٹھہر سکتی۔پس جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں۔کہ روحانی آسمان سے قطع تعلق کر کے بچ رہیں گے کیسے اندھے ہیں۔جس طرح اس نظام کامل کاجز و رہتے ہوئے ہی زمین محفوظ رہ سکتی ہے اسی طرح روحانی نظام کا جزو بننے سے ہی انسان ہلاکت سے بچ سکتاہے ورنہ اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔خصوصاًجبکہ وہ اس نظام پر حملہ آور ہو۔تواس کی نجات قطعاًناممکن ہے۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرو ں کو بتایا گیا ہے کہ آسمان روحانی سے قطع تعلق کرلینے کی وجہ سے ان کے سامان کسی کام بھی نہ آئیں گے بلکہ اب ان کی تباہی اورمسلمانوں کی ترقی کا وقت آن پہنچا ہے۔اس آیت میں کس زورشور سے کفار کی تباہی کی خبر دی گئی ہے اورساتھ ہی یہ بتایاگیا ہے کہ اب وہ وقت آیا ہی چاہتاہے۔اس کے بعد جس طرح جلد جلد حالات بدلے اورکفار مکہ کی تباہی کے سامان پیداہوئے۔وہ ایک ایسانشان ہے کہ کسی الٰہی سلسلہ میں بھی اس سے پہلے اس کی نظیر نہیں ملتی۔کیونکہ یہ تباہی آسمانِ روحانی کے سب سے بڑے ستارے بلکہ سورج کی مخالفت اوراس سے قطع تعلق کے نتیجہ میں ظاہر ہوئی۔اس سورۃ کا مکی ہونا زیادہ درست ہے اس آیت سے یہ معلوم ہوتاہے کہ جن لوگوں کاخیال ہے کہ یہ سورۃ مکی زندگی کے آخر میں نازل ہوئی زیادہ درست ہے۔کم سے کم یہ آیات تومعلوم ہوتاہے ضرور مکی زندگی کے آخری ایام میں نازل ہوئی ہیں کیونکہ ان میں مکہ والوں کی تباہی پر خاص زورہے اوراسے بہت قریب بتایا گیا ہے۔سورہ نحل