تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 359
اصفح۔اصْفَحْ صَفَحَ سے امرکاصیغہ ہے اورصَفَحَ عَنْہُ صَفْحًا کے معنے ہیں اَعْرَضَ عَنْہُ وَتَرَکَہٗ وَحَقِیْقَتُہٗ وَلَّا ہُ صَفْحَۃَ وَجْھِہِ۔ا س سے اعراض کیا اوراس کو چھوڑ دیا۔اورصَفَحَ کے اصل معنے یہ ہیں۔کہ اس سے اپنے منہ کو ایک طرف کر لیا۔یعنی اس کی طرف توجہ نہ کی۔صَدَّعَنْہُ اس سے رک گیا۔اَعْرَضَ عَنْ ذَنْبِہٖ اس کے گناہوں سے درگذر کیا اور اسے معاف کیا۔صَفَحَ النَّاسَ۔نَظَرَ فی اَحْوَالِھِمْ۔لوگوں کے حالا ت کو بغوردیکھا۔صَفَحَ فِی الْاَمْرِ نَظَرَفِیْہِ۔کسی معاملہ میں غورو فکر کیا۔اَلصَّفْحُ۔صَفَحَ کامصدر ہے نیز اس کے معنے ہیں اَلْجَانِبُ۔طرف۔صَفْحٌ من الْاِنْسَانِ۔جَنْبُہُ انسان کاپہلو۔(اقرب) پس فَاصْفَحِ الصَّفْحَ کے معنے یہ ہوئے کہ (۱)ان سے منہ پھیر لے۔یعنی اب اتمام حجت ہوچکی ہے اس لئے اب منکروں سے بحث و مباحثہ بند کردو (۲)ان لوگوں سے زیادہ تعلق نہ رکھو۔(۳)ان کے گناہوں سے اعراض کرو۔یہ معنے یہاں مراد نہیں (۴)ان کی حالت پر اچھی طرح غور کرو۔اورحالات کا بغورمطالعہ کرو۔اوردیکھو کہ کیاسے کیا ہورہا ہے ؟(۵)ان کے اموراورحالات کی طرف دیکھو کہ کس طرح گمراہی کی طرف جارہے ہیں۔الجمیل:اَلْجَمِیْلُ جَمُلَ سے صفت مشبّہ ہے اورجَمُلَ الرَّجُلُ۔یَجْمُلُ جَمَالًاکے معنے ہیں۔حَسُنَ خَلْقًا وخُلْقًا کہ ظاہر و باطن کے لحاظ سے اچھا ہوگیا (اقرب) پس فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الجَمِیْلُ کے معنے ہوں گے کہ ایسادرگذر کرو جو ہررنگ میں اچھا ہو۔تفسیر۔لفظ ساعۃ اور اس کا استعمال یعنے آسمان و زمین کی پیدائش پر غورتوکرو کیا وہ بلا مقصد نظر آتی ہے اس کارخانہ پر نظر ڈالنے سے ہراک عقل مند سمجھ سکتاہے کہ اس قدر بڑا نظام کس غرض سے ہے۔اوراس سے نتیجہ نکا ل سکتاہے کہ ساعۃ ضرور آنے والی ہے۔اورساعۃ کالفظ قیامت کے لئے بھی استعمال ہوتاہے۔اوراس موعود گھڑی کے لئے بھی جو انبیاء کے دشمنوں کی تباہی اوران کے ماننے والوں کی ترقی کے لئے مقررہوتی ہے۔آیت کا پہلا حصہ دونوں ساعتو ں کے لئے بطوردلیل ہے۔زمین وآسمان کی پیدائش قیامت کی بھی دلیل ہے اورنبیوں کی کامیابی اور ان کے دشمنوں کی تباہی کی بھی۔پیدائش دنیا کی غرض قیامت کی اس طرح کہ اگرانسان کی زندگی صرف اس دنیا تک ختم ہوجاتی ہے۔توگویا اس قدر بڑی دنیا اللہ تعالیٰ نے صرف اس لئے پیدا کی ہے کہ انسا ن اس میں پیداہوکچھ دن کھائے پئے اورپھر مرجائے۔اوریہ خیال بالکل خلافِ عقل ہے۔اس قدر بڑے نظام کا پیداکرنا ایک بہت بڑ ی غرض کے لئے ہی ہو سکتا ہے۔اوروہ غرض پوری ہوتی اس دنیا میں نظرنہیں آتی۔پس ضرور ہے کہ انسان کی زند گی اسی دنیوی حیات تک