تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 32
سلوک نہیں کرتا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ نیکوں کے متعلق اپنے رویہ کو نہیں بدلتا۔جب تک ان میں تبدیلی واقع نہ ہو جائے اور وہ برے نہ بن جائیں۔یعنی برے کے ساتھ تو خدا کا سلوک نیک ہوسکتا ہے مگر نیک کے ساتھ برا نہیں ہوا کرتا۔جب تک وہ خود بدل نہ جائے۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔پراگندہ کردینے والے ابتلاء آنا قوم کی حالت کے تغیر پر دال ہے جب کسی قوم کی حالت خراب ہورہی ہو اور اسے ایسے ابتلا پیش آویں جو اسے پراگندہ کر دیں اور تباہ کر دیں جیسا کہ تغیر کا حقیقی منشاء ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس قوم کی حالت بدل چکی ہے۔مِنْ وَّالٍ کے معنے۔وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ۔سوء کے معنے بدی یا تکلیف کے ہوتے ہیں۔فرمایا اگر اللہ تعالیٰ تمہیں تکلیف دینے کا فیصلہ کرے تو پھر کوئی اس کو روکنے والا نہ ہوگا۔وَلِیَ الْاَمْرَ کے معنے مَلَکَہٗ آتے ہیں۔تو فرمایا کہ خدا کے مقابلہ میں کوئی ان کا نگران والی و محافظ نہ ہوگا۔اس میں وحدت ملکیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔یعنی جب ایک ہی مالک ہے تو اس کی چھوڑی ہوئی چیز کو کون حفاظت میں لے سکتا ہے۔پس اگر ہم چھوڑ دیں گے تو پھر بے مدد ہی رہ جاؤ گے کیونکہ دوسرا کوئی آقا تو ہےنہیں۔اس آیت میں صاف طور پر کفار کو بتلا دیا گیا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو حفاظت کروں گا مگر تم سے حفاظت کو چھین لوں گا۔هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ يُنْشِئُ وہی ہے جو تمہیں بجلی (کی چمک) دکھا تا ہے خوف کے لئے (بھی) اور طمع کے لئے (بھی) السَّحَابَ الثِّقَالَۚ۰۰۱۳ اوربھاری بادل اٹھاتا ہے۔حلّ لُغَات۔اَنْشَأَیُنْشِیُٔ أَنْشَأَ سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اَنْشَأَہٗ اِنْشَاءً کے معنی ہیں رَبَّاہُ۔اس کی پرورش کی۔الشَّیْءَ اَحْدَثَہٗ اور اَنْشَأَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں کسی چیز کو بنایا۔اَللہُ الشَّیْءَ۔خَلَقَہٗ اللہ نے کسی کو پیدا کیا۔ا ور أَنْشَأَ اللہُ الْخَلْقَ کے معنی ہیں اِبْتَدَأَ خَلْقَھُمْ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کی ابتداء کی۔فُلَانٌ الْحَدِیْثَ۔وَضَعَہٗ جب حدیث کے لئے یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں کوئی بات بنائی۔اللہُ السَّحَابَۃَ رَفَعَھَا اور أَنْشَأَ اللہُ السَّحَابَۃَ کے معنی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو بلند کیا۔فُلَانٌ دَارًا۔