تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 351

کی اولاد نہیں ہو ئی یا ان کی اولاد زیاد ہ نہیں پھیلی اور بھائیوں کی اولاد کے ساتھ مل جل گئی۔یقسان جو بڑے لڑکے تھے ان کی نسل میں سے ان کے لڑکے دوان کی نسل بھی ایک قبیلہ کی صورت میں مشہو رہے۔اوریہ لوگ مدین یعنی چچا کی اولاد کے ساتھ ساتھ رہاکرتے تھے۔چنانچہ مصنف ارض القرآن کاخیال ہے۔کہ اصحاب الایکہ دوان قو م ہی کے لوگ تھے جو مدین کے ساتھ ہی ایکہ میں رہتے تھے (جلد ۲ صفحہ ۲۱،۲۲)۔اورگویا بمنزلہ ایک ہی قوم کے تھے میرے نزدیک یہ رائے معقو ل ہے۔بشرطیکہ یہ سمجھا جائے کہ دونوں قومیں مل کررہتی تھیں۔اوران کا ایک ہی قسم کاتمدن تھا۔تجارت پیشہ بھی تھے اورجانوروں کے گلے بھی پالتے تھے۔یہ نہیں کہ ایک حصہ تجارت پیشہ تھا۔جومدین تھے اورایک حصہ جانو ر پالنے والا تھا۔جو دوان تھے اورجنگل میں رہتے تھے۔کیونکہ یہ قرآن کریم کے بیان کے خلاف ہے۔بہرحال اصل قوم بنو قتورہ تھی۔جوایک ماں اورباپ سے تھے۔باقی تواندرونی تقسیمیں تھیں۔بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر یہ قوم بنو اسماعیل کے اندر جذب ہوگئی تھی کیونکہ پیدائش باب ۳۷۔آیت ۳۶ میں پہلے تو لکھا ہے کہ حضرت یو سف کو مدیانیوں نے فوطیمار کے پا س مصر میں فروخت کردیا۔اورپھر باب ۳۹ میں لکھا ہے کہ فوطیفار مصری نے یوسف کو اسماعیلیوں کے ہاتھ سے خریدا (آیت ۱)۔اس سے معلو م ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے پہلے یہ قوم بنو اسماعیل میں جذب ہوگئی تھی۔اور وہی قوم کبھی مدیانی کہلاتی تھی۔اور کبھی اسماعیلی۔مدین قوم کا زمانہ باقی رہے یہ سوال کہ یہ قوم کب ہوئی۔اورشعیب کون تھے؟ان سوالات کے جواب مفسرین اورمؤرخین نے مختلف دیئے ہیں ان کے لئے دیکھو سورہ اعراف ع ۱۸؍۱۱۔اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ کے ایک ہونے کا ثبوت قرآن سے یہ امر کہ اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی جماعت یاقوم تھے۔اس امر سے بھی ثابت ہوتاہے کہ قرآن کریم نے ان دونوں کے عیوب ایک ہی قسم کے گنائے ہیں۔سورئہ اعراف میں مدین قوم کی نسبت آتاہے۔فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا(الاعراف :۸۶)ماپ اورتول پورے دیاکرو اورلوگوں کو چیزیں تول کر دیتے وقت کمی نہ کیا کرو۔اورزمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ کرو۔بعینہٖ یہی الفاظ اصحاب ایکہ کی نسبت ہیں۔جن کا ذکر سورہ شعراء میں آتاہے انہیں مخاطب کرکے بھی حضرت شعیب فرماتے ہیںاَوْفُوا الْكَيْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ۔وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِ۔وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ (الشعراء :۱۸۲۔۱۸۴) یعنی وزن پورادیا کرو۔اورلوگوں کو گھاٹانہ دیا کرو۔اورسیدھی ڈنڈی سے تولا کر واورلوگوں کی