تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 347

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ۰۰۷۶ اس (ذکر) میں فراست سے کام لینے والوں کے لئے یقیناً کئی نشان (موجود )ہیں۔حلّ لُغَات۔متوسمین۔مُتَوَسِّمِیْنَ تَوَسَّمَ سے اسم فاعل کاصیغہ مُتَوَسّمٌ آتاہے اورمُتَوَسِّمُوْنَ اس کی جمع ہے اورتَوَسَّمَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں تَخَیَّلَہٗ وَ تَفَرَّسَہٗ۔اس پر غور کیا سوچ کر اس کی حقیقت کو معلوم کیا۔طَلَبَ وَسْمَہُ۔اَیْ عَلَامَتَہٗ۔کسی چیز کی علامت دریافت کی۔تَعَرَّ فَہٗ۔کسی چیزکوپہچاننے کی کوشش کی۔یُقَالُ تَوَسَّمْتُ فِیْہِ الْخَیْرَ۔اَیْ تَبَیَّنْتُ فِیْہِ اَثْرَہٗ۔جب تَوَسَّمْتُ فِیْہِ الْخَیْرَ۔کامحاورہ استعمال کریں تومعنے یہ ہوں گے کہ میں نے خیر کے نشان اس میں پائے (اقرب)پس اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ کے معنے ہوں گے کہ اس میں غورکرنے والوں کے لئے کئی نشان ہیں۔تفسیر۔حضرت لوط ؑ کے واقعہ سے آنحضرت ؐ کے منکرین کو انتباہ یعنی جولوگ فراست سے کام لیتے ہیں ان کے لئے اس واقعہ میں نشانات ہیں۔یعنے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ لوط کے واقعہ کو محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات سے مشابہت ہے۔پس آپ کے دشمنوں کو بھی اسی طرح تباہ کیاجائے گا۔جس طرح حضرت لوط کے دشمنوں کو تباہ کیاگیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کوزلزلہ کا نشانہ تونہ بننا پڑا۔مگر بدر کی جنگ میں ان پر پتھر پڑے یعنی آندھی چلی اورکنکر اُڑ اُڑ کرکفار کی آنکھو ں میں گھُس گئے۔جن کی وجہ سے وہ نشانہ درست نہ لگاسکتے تھے۔(دلائل النبوۃ للبیہقی باب التقاء الجمعین و نزول الملائکۃ وما ظھر فی رمی النبی بالقبضة) نیز معنوی طور پر بھی یہ سلوک ان سے ہوا۔کہ بڑے چھوٹے کردیئے گئے اورچھوٹے بڑے۔گویااوپر کاطبقہ نیچے آگیا اورنیچے کااوپر چنانچہ ابوجہل۔عتبہ۔شیبہ وغیر ہ اور ان کے خاندان تباہ ہوگئے۔اورابوبکر ؓعمرؓ وغیرہ جوان سے چھوٹے سمجھے جاتے تھے بادشاہ بن گئے۔حضرت عمرؓ کی خلافت میں اس قسم کا عجیب نظارہ نظرآتاہے۔آپ حج کے لئے تشریف لے گئے۔توعمائدین مکہ ملنے آئے۔آپؓ نے غلام صحابہؓ کو صدر کے قریب جگہ دی اوران کو پیچھے بٹھایا۔انہوں نے باہر نکل کر شکایت کی کہ آج ہمیں ذلیل کیا گیاہے۔توخود ان میں سے بعض نے کہا کہ یہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔جب ہمارے باپ دادے محمد رسول اللہ کی مخالفت کررہے تھے تویہ لو گ آپؐ پر ایمان لاکر قربانیاں کر ر ہے تھے۔اب تویہی عز ت کے مستحق ہیں۔(مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب ؓ از ابی الفرج