تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 346
اورمشرقین کہنا بھی۔فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ جس پر ہم نے اس (بستی )کی اوپر والی سطح کو اس کی نچلی سطح کردیااوران پر سنگریزوں سے بنے ہوئے پتھروں کی سِجِّيْلٍؕ۰۰۷۵ بار ش برسائی۔حلّ لُغَات۔اَمْطَرَ۔اَمْطَرَ مَطَرَ سے ثلاثی مزید ہے۔اور اَمْطَرَتِ السَّمَآءُ کے معنے ہیں۔مَطَرَتْ أَیْ اَصَابَتْھُمْ بِالْمَطَرِ مینہ برسا وَ قِیْلَ مَطَر فِی الْخَیْرِ وَالرَّحْمۃِ وَاَمْطَرَفِی الشَّرِّ وَالْعَذَابِ اوربعض کہتے ہیں کہ مَطَرَ (ثلاثی مجرد)خیر اورحمت میں استعمال ہوتاہے اوراَمْطَرَ(ثلاثی مزید)شرّاورعذاب میں (اقرب) سِجِّیْل: سِجِّیْلٌ سَجَلَ سے ہے۔اورسَجَل بِہٖ سَجْلًا کے معنے ہیں رَمیٰ بِہٖ مِنْ فَوْقَ۔اس کو اوپر سے پھینکا۔سَجَلَ الْمَآءَ:صَبَّہٗ پانی کو گرایا۔اور السِّجِّیْلُ کے معنی ہیں حِجَارَۃٌ کَالْمَدَرِ سنگریزے۔وَقِیْلَ مُعَرَّبَۃٌ اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ لفظ معرّب ہے(اقرب)(یعنی غیر زبان کا ہے۔لیکن جیساکہ رعد حل لغات آیت نمبر ۱۹ زیر لفظ جہنم اورابراہیم آیت نمبر۳۶ ز یرلفظ صنم بتایاگیاہے کہ جن الفاظ کا مادہ عربی میں استعمال ہوتاہے ان کو معرّب کہنا درست نہیں۔پس یہ بھی معرّب نہیں) تفسیر۔لوط ؑ کی قوم پر سخت عذاب آنے کی وجہ لوط ؑکی قوم نے چونکہ اعلیٰ اخلاق چھوڑکر ادنیٰ اخلاق اختیار کئے تھے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی ان کے شہر کے اوپر کے حصہ کو نیچے کردیا اورکہاکہ جائو۔پھر نیچے ہی رہو۔بعض لوگ کہتے ہیں۔پتھر کیونکر گرے۔اس کا جواب یہ ہے۔کہ شدید زلزلہ سے بعض دفعہ زمین کا ٹکڑا اوپر اٹھ کر پھر نیچے گرتاہے۔ایسا ہی اس وقت ہوا۔زمین جو پتھریلی تھی۔اوپر اُٹھی اورپھر دھنس گئی اوراس طرح وہ پتھروں کے نیچے آگئے۔یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ ان کے گھروں کی دیواریں ان پر آپڑیں۔معلوم ہوتاہے وہ لوگ پتھروں سے مکان بنایاکرتے تھے۔سجیل کہتے بھی ہیں اس پتھر کو جوگارہ سے ملا ہواہو۔پس یہ ایسی دیواروں پر خوب چسپاں ہوتا ہے جن میں پتھرگارہ سے لگائے گئے ہوں۔