تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 342
کرسکتاہے تواس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو ان لوگوں کی تسلی کے لئے تھا۔ورنہ حضرت لوط جانتے تھے کہ نہ میں ان سے غداری کروں گا اورنہ لڑکیوںکو دکھ دینے کاسوال پیدا ہوگا۔لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ۰۰۷۳ (اے ہمارے نبی )تیری زندگی کی قسم (کہ)یہ (تیرے مخالفین بھی)یقیناً(انہی کی طرح )اپنی بدمستی میں بہک رہے ہیں۔حلّ لُغَات۔لَعَمْرُکَ۔لَعَمْرُکَ اَلْعَمْرُ کے معنے ہیں۔الحیاۃ ،زندگی۔وَقِیْلَ الْعَمْرُدُوْنَ الْبَقَاءِ لِاَنَّہٗ اِسْمٌ لِمُدَّۃِ عِمارَۃِ الْبَدَنِ بِالْحَیَاۃِ وَالْبَقَاءُ ضِدُّ الْفَنَاءِ وَلِھٰذَا یُوْصَفُ الْبَارِیْ بِالْبَقَاءِ وَقَلَّمَا یُوْصَفُ بِالْعَمْرِ۔بعض نے کہا ہے کہ عَمْرٌ کالفظ بَقَاءُکی نسبت کم زمانے کے لئے بولاجاتاہے کیونکہ عَمْرٌ اس عرصے کو کہتے ہیں جب تک کہ انسانی جسم میںز ندگی رہے اور بقاء کالفظ فناءکے مقابل پر استعمال ہوتاہے اسی اختلاف کی بناء پر خدا تعالیٰ کے لئے لفظ بقاء تواستعمال کیا جاتا ہے لیکن عمرٌ کااستعمال اللہ تعالیٰ کے لئے شاذ ہی ہوتاہے اَلْعَمْرُ اَیْضًا الدِّیْنُ۔دین۔وَمِنْہُ لَعَمْرِیْ فِی الْقَسَمِ اَیْ لَدِیْـنِیْ اور لَعَمْرِیْ کالفظ جو قسم کے طورپر استعمال ہوتاہے وہ انہی معنوں میں ہے یعنی مجھے اپنے دین کی قسم (اقرب)پس لَعَمْرُکَ کے معنی ہوں گے (۱) تیری زندگی کی قسم (۲)تیرے دین کی قسم۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ کا مختلف اشیاء کی قسم کھانے کا مطلب بعض نے کہا ہے کہ زندگی کی قسم کھانادرست نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں کیوں قسم کھائی؟ (قرطبی زیر آیت ھذا)۔اس کاجوا ب یہ ہے کہ بے شک انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے سواکسی کی بھی قسم کھانادرست نہیں۔لیکن یہ تواللہ تعالیٰ کاقول ہے اوراللہ تعالیٰ نے تودن کی اور رات کی اورصبح کی اوردوپہر کی اورہوائوں کی بھی قسم قرآن میںکھا ئی ہے۔پھر زندگی کی قسم اس کے لئے کس طرح معیوب ہوگئی ؟اصل بات یہ ہے کہ بند ہ جس کی قسم کھاتاہے اس کی عظمت کا اظہار کرتاہے اوراللہ تعالیٰ جہاں قسم کھاتاہے اس سے اس وجود کو جس کی قسم کھائی ہو بطور شہادت پیش کرنا مطلوب ہوتاہے۔پس اللہ تعالیٰ کے لئے کسی شے کی قسم کھا نامعیو ب نہیں۔اس قسم کا صرف یہ مطلب ہوتاہے کہ میں اس شے کو بطو ردلیل پیش کرتاہوں اوریہ قسم شہادت کی قسم ہوتی ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کی جاسکتی ہے کیونکہ اسی کو طاقت حاصل ہے کہ