تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 341

ایسے ہی کاموں کی وجہ سے عذاب آرہاہے۔آیت هٰؤُلَآءِبَنٰتِيْۤ کے متعلق عام لوگوں کے خیال کا رد حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کے فقط یہ معنے ہیں کہ میری بیٹیاں تم میں بیاہی ہوئی ہیں اگر تم سمجھتے ہو کہ میں باہرسے آدمی تم کو نقصان پہنچانے کے لئے لایاہوں توتم میں میری بیٹیا ںموجود ہیں اگر میں کوئی شرارت کرو ں اور تم کو نقصان پہنچاکر یہاں سے بھاگ جائو ں توتم انہیں دکھ دے سکے ہو۔آخر میں باپ ہوں ا س صورت کے ہوتے ہوئے میں تمہارے خلاف کس طرح کوئی قدم اٹھا سکتا ہوں؟ (دیکھو اس آیت کی مزید تشریح کے لئے سورۃ ہود ع ۷زیر آیت ۸۰)بعض کہتے ہیں کہ بَنٰتِیْ سے مراد حضرت لوط کے قول میں ان لوگوں کی بیویاں تھیں جو بوجہ نبی ہونے کے اوربڑی عمر والاہونے کے وہ ان کی بیویوں کو بیٹیاں کہتے ہیں (تفسیر کبیر امام رازی سورۃ حجر زیر آیت ھذا)اورکہتے ہیں اگر کچھ کرنا ہے تواپنی بیویوں سے جو چاہو کرو۔یہ معنے اس غلط خیال سے اچھے ہیں مگران معنوں سے اس طرف ضرور اشارہ نکلتاہے کہ وہ لوگ ان مردوں سے بدکاری کرناچاہتے تھے اورمیں جیساکہ ثابت کرچکاہوں یہ قرآن کریم سے اورعقل سے ہرگز ثابت نہیں۔پس یہ معنے گو نسبتاً اچھے ہیں لیکن قرآن کریم کے کامل مفہوم کوظاہرنہیں کرتے۔اس جگہ ایک لطیفہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔جو یہ ہے کہ اردو دان لوگ ا س آیت سے بہت دھوکہ کھاتے ہیں کیونکہ اوباشوں کی زبان میں فاعل کالفظ مباشر ت کرنے والے کے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔اورفاعلین کے لفظ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مطلب تو واضح ہے حالانکہ قرآن کریم عربی میں ہے نہ کہ اردو میں۔عربی میں ایساکوئی محاورہ نہیں۔دوسرے حضرت لوط ؑ تونبی تھے وہ اوباشوں کی زبان کیوں بولنے لگے۔یہ مضمون کسی قدر رکیک ہے۔مگرچونکہ مجھے اردودان طبقہ کو اس آیت کامضمون سمجھا نے میں مشکلات پیش آئی ہیں اوراس محاورہ کو انہیں پیش کرتے ہوئے دیکھاہے اس لئے میں نے باوجود حیاء کے اس کابھی رد کردیا ہے۔آیت هٰؤُلَآءِ بَنٰتِيْۤ کا مطلب غرض اس آیت کے معنے صرف اتنے ہیں کہ حضر ت لوط نے اپنی بیاہی ہوئی بیٹیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ یہ تمہارے قبضہ میں ہیں پھر تم کو کیوں شک ہے۔کہ میں تم سے غداری کروں گا۔پس اگر تم آ ج ضرور میرے خلاف کسی اقدام پر تُلے ہوئے ہوتومیں تم کو ایک ایسی بات بتاتاہوں جو تمہاری تجویز سے (یعنے حضرت لوط ؑ کے مہمانوں کو ذلیل کرکے وہاں سے نکال دینے سے)بہت بہتر ہے اوراس میں مہمانوں کی تذلیل کا گناہ بھی نہیں ہوتا۔اوروہ یہ کہ میری بیٹیو ں کی نگرانی رکھو اور اگر میں تم کو نقصان پہنچائو ں توان کوتکلیف دے کر تم مجھے دکھ دے سکتے ہو۔اگریہ کہا جائے کہ لڑکیوں کو دکھ دینے کی تجویز ایک نبی کس طرح