تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 340
لوگ ان مردوں سے بدکاری کرنے کی نیت سے نہیں آئے تھے۔اگر وہ اجنبیوں سے ایسے فعل کیاکرتے تھے تووہ یہ نہ کہتے کہ جب ہم نے منع کیا ہواہے کہ اجنبی آدمی نہ لایا کرو۔پھرتُوکیوں اجنبیوں کولایا؟تب تو انہیں حضرت لوط کے مہمان بلانے پر خوش ہوناچاہیے تھا۔نیز یہ کیسی عقل کے خلا ف بات ہے کہ پہلے توکبھی انہوں نے مہمانوں سے ایسافعل نہ کیا۔بلکہ صرف مہمان لانے سے روکتے رہے لیکن اس دن بدکاری پر تیار ہوگئے اصل با ت یہ ہے کہ یہ خیال بالکل خلاف عقل ہے۔کہ وہ بدکاری کرنا چاہتے تھے اوربائبل سے لے کر بعض مفسرین نے نقل کردیا ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ شہر کے لوگ ان فرشتوں سے بدکاری کرنا چاہتے تھے (پیدائش باب۱۹ آیت ۵) حالانکہ بائبل میں ایسی رطب و یابس باتیں بہت سی درج ہیں او راس کے بہت سے مضامین متضاد ہیں۔اس کے بیان کی جب تک قرآن کریم یاصحیح تعریف یا عقل سے تائید نہ ہوتی ہو۔اعتبار کرناسخت خطرناک ہے۔قَالَ هٰؤُلَآءِ بَنٰتِيْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَؕ۰۰۷۲ اس نے کہا (کہ )اگرتم نے (میرے خلاف )کچھ کرنا (ہی)ہوتو یہ میری بیٹیاں(تم میں موجود ہی)ہیں۔تفسیر۔اس آیت کو اوپر کے لغو خیا ل کی تائید میں دلیل سمجھاجاتاہے لیکن یہ دلیل دعویٰ سے بھی لُچر ہے۔ایک طرف تو ان لوگوں کو مردوں سے بدکاری کا شائق قرار دیاجاتاہے۔اورکہاجاتاہے کہ وہ ان مردوں سے بدکاری کرنے کے شوق میں آئے تھے اوردوسری طرف یہ کہاجاتاہے کہ حضرت لو ط نے کہا کہ اگر بدکاری کاشوق ہے تومیری بیٹیاں حاضر ہیں۔اگر ان لوگو ں کو عورتوں سے مباشرت کا شوق ہوتا۔توکیاان کے گھر میں بیویاں نہ تھیں وہ اس طرح ان کے پاس کیوں دوڑے آتے اوراگر وہ مردوں سے بدکاری کی نیت سے آئے تھے توپھر حضرت لوط ؑ کے اس قول کے کیامعنے ہوئے کہ کچھ کرنا ہی ہے تولڑکیوں سے بدکاری کرلو۔کیاایسے موقع پر کوئی معقول آدمی یہ بات کہہ سکتاہے؟حضرت لوط ؑ کانبی کا مقام نظرانداز کردو۔مگرایک معقول آدمی کے مقام سے تو ایک کافر بھی انہیں نہیں گرائے گا۔پھر یہ کیسے تعجب کی بات ہے کہ حضرت لوط ؑجوخداکے نبی تھے خودان لوگوں کو ایک اوربدکاری کی جو پہلی سے کم نہیں تعلیم دیتے ہیں کیاکوئی عقل مندآدمی بھی اس بات کوباورکرسکتاہے کہ عین اس وقت جب بدکاریوں کی وجہ سے اس قوم پر عذاب آنے لگاتھا حضرت لوط ؑ ان کو ایک اوربدکاری کا مشورہ دیتے ہیں اوریہ بھول جاتے ہیں کہ