تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 339
تفسیر۔جب شہرکے لوگ حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے تو حضرت لوط ؑ جن کو وہ لوگ باہر کے آدمی لاکرمہمان رکھنے سے منع کیاکرتے تھے سمجھ گئے کہ اب یہ قوم مجھے ملزم قرار دے گی۔اورانہوں نے الگ ہو کر ان سے کہا۔کہ اب تومیں مہمان لے آیاہوں۔اب تم مجھے مہمانوں کے سامنے ان کی ضیافت پرزجر کرکے نادم نہ کرو۔وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ۰۰۷۰ اوراللہ (تعالیٰ) کاتقویٰ اختیارکرو اورمجھے ذلیلنہ کرو۔حلّ لُغَات۔تُخْزُونِ:تُخْزُوْنِ اَخْزَی سے مضارع جمع مخاطب کاصیغہ ہے اوراَخَزَاہُ اِخْزَاءً کے معنے ہیں اَوْقَعَہٗ فِی الْخِزْیِ اَوِالْخَزَایَۃِ واَھَانَہٗ۔کہ اس کو ایسے معاملہ میں پھنسایا جس سے اُسے ندامت ہو اوراسے رسواو ذلیل کیا (اقرب)فَلَا تُخْزُونِ کے معنے ہوں گے کہ تم مجھے ذلیل نہ کرو۔تفسیر۔اللہ کاتقویٰ اختیار کرو۔یعنے مہمان نوازی ایک نیک فعل ہے۔اس پر اعتراض نہ کرو اورمہمانوں کے سامنے مجھے ذلیل نہ کرو۔قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۷۱ انہوں نے کہا اور کیا ہم نے تمہیں (بیرونی)لوگوں (کو اپنے پاس ٹھہرانے )سے روکا نہ تھا۔تفسیر۔حضرت لوط ؑ کی قوم کا ان کو کسی مہمان کے پاس لانے سے روکنے کی وجہ اس زمانہ میں ان بستیوںاور دوسری بستیوں میں کچھ جھگڑے تھے۔اوروہ ڈرتے تھے کہ باہر سے آدمی آکر شہر پر حملہ نہ کروادیں۔اس لئے وہ لوگ حضرت لوط ؑ کو اجنبی مہمان لانے سے روکتے رہتے تھے (پیدائش باب ۱۴ آیت ۱۱)۔مگرچونکہ علاقہ خطرناک تھا۔حضرت لوط ؑکو جب اجنبی ملتے وہ انہیں اپنے گھر لے آتے تارات کو وہ راستہ پر لٹ نہ جائیں۔اس دفعہ جو وہ مہمان لائے اس شہر والوں نے فیصلہ کیا کہ اب کے ضرور لوط(علیہ السلام) کی اچھی طرح خبر لینی چاہیے اور چونکہ حضرت لوط کو کسی بہانہ سے بستی سے نکالناچاہتے تھے وہ خوش بھی ہوئے کہ اب یہ قابو آگئے ہیں اب ہم ان کو یہاں سے چلے جانے پرمجبورکرسکیں گے ان کا یہ تردّد اس لئے تھاکہ حضر ت لوط کی بیٹیاں وہاں بیاہی ہوئی تھیں اوراس وجہ سے وہ شہر کے ساکن تھے اورانہیں بلاوجہ نہیں نکالاجاسکتاتھا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ وہ