تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 338
گی۔دَابِر ھٰؤُلَآئِ سے یہ مراد ہے ان کا آگاپیچھا کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْتَبْشِرُوْنَ۠۰۰۶۸ اور(ادھر)اس شہر کے لوگ خوشیا ں مناتے ہوئے (اس کے پاس )آئے۔حلّ لُغَات۔المدینۃ:المَدِیْنَۃُ مَدَنَ سے اسم ہے اورمَدَنَ بِالْمَکَانِ کے معنی ہیں اَقَامَ۔کسی جگہ ٹھہرا۔اوراَلْمَدِیْنَۃُ کے معنی ہیں الْمِصْرُالْجَامِعُ بڑاشہر۔وَقِیْلَ الْحِصْنُ یُبْنٰی فِیْ اُصْطُمَّۃِ الْاَرْضِ۔وہ قلعہ جو کھلی فراخ زمین میں بنایاجاوے۔(گویا اردگرد کے لئے مرکز کاکام دے )۔(اقرب) تفسیر۔حضرت لوط کی بستی کو مدینہ کہے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اہم بستی تھی اس بستی کو مدینہ کہہ کر پکاراگیاہے۔معلوم ہوتاہے اہم بستی تھی۔چنانچہ بائبل سے معلوم ہوتاہے کہ یہ شہر چند بستیوں کا مرکز تھا(پیدائش باب ۱۹ آیت ۱۸۔۳۱)۔یَسْتَبْشِرُوْنَ کہہ کر یہ بتایا ہے کہ وہ لوگ خوش ہوئے کہ اب حضرت لوط کو ملزم بناسکیں گے اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ ان مردوں سے بدکاری کرنے کی خواہش کی وجہ سے وہ خوش تھے۔جیساکہ مفسرین نے لکھا ہے۔کیا اس بستی میں مر دنہ ہوتے تھے کہ باہرسے آنے والوں کی خبر سن کر وہ خوش ہوگئے (تفسیر بغوی زیر آیت ھذا)۔قَالَ اِنَّ هٰؤُلَآءِ ضَيْفِيْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ۰۰۶۹ (جس پر )اس نے (ان سے)کہا (کہ )یہ لوگ یقیناً میرے مہمان ہیں۔اس لئے تم(انہیں تکلیف دے کر)مجھے رسوانہ کرو۔حلّ لُغَات۔تَفْضَحُوْنِ:تَفْضَحُوْنَ فَضَحَ سے جمع مخاطب کے مضارع کاصیغہ ہے اور فَضَحَ کے معنے ہیں۔کَشَفَ مَسَاوِئَہُ۔اس کے عیوب کو ظاہر کیا۔وَفِی الدُّعَاءِ لَاتَفْضَحْنَا بَیْنَ خَلْقِکَ اَیْ أُسْتُرْعُیُوْبَنَا وَلَا تَکْشِفَہَا عَنَّا(اقرب)اوردعائے مسنونہ میں جو فَضَحَ کالفظ استعمال ہواہے اس کے معنی ہیں کہ اے خدا!ہمارے عیوب پرپردہ پوشی کر اوران کو ظاہر نہ کر(اقرب)پس فَلَا تَفْضَحُوْنِ کے معنے ہوں گے تم میری کمزوریوں کو ظاہرکرکے مجھے رسوانہ کرو۔