تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 337

بھیجاتھا۔ان کو سب نشان پتہ بتاکر معلوم ہوتاہے وہ لو گ چلے گئے اورکہہ گئے کہ ہماری بتائی ہوئی جگہ پر آجانا کیونکہ وہیں آپ کا آنا اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے مقدرکیاہے۔وَ قَضَيْنَاۤ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ اوریہ بات ہم نے اسے یقینی طورپربتادی ہے کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے (ہی) مُّصْبِحِيْنَ۰۰۶۷ کاٹ دی جائے گی۔حلّ لُغَات۔قَضَیْنَا۔قَضَیْنَا قَضٰی سے جمع متکلم کاصیغہ ہے اورقَضٰی بَیْنَ الْخَصْمَیْنِ کے معنی ہیں حَکَمَ وَفَصَلَ۔مدعی اورمدعاعلیہ کے درمیان جھگڑے کافیصلہ کردیا۔قَضَی الشَّیْءَ قَضَاءً۔صَنَعَہٗ بِاِحْکَامٍ وَقَدَّرَہٗ۔کسی چیز کو عمدہ طورپر بنایا۔اورا س کاصحیح اندازہ لگایا۔قَضَی الْاَمْرَ عَلَیْہِ۔خَتَمَہٗ وَاَوْجَبَہٗ وَاَلْزَمَہٗ بِہٖ۔اس کے خلاف بات کو ختم کردیا اوراس پر اس کوواجب کر دیا اوراس کاپوراکرنا ا س کا فرض قرار دیا۔اَلشَّیئَ۔اَعَلَمَہٗ و بَیَّنَہُ کسی معاملہ کا اعلان کیا اور اس کو کھول کر بیان کیا۔قَضَی لَکَ الْاَمْرَاَی حَکَمَ لَکَ کسی معاملہ کاتیرے حق میں فیصلہ کردیا (اقرب)پس قَضَیْنَا اِلَیْہِ کے معنے ہوں گے کہ ہم نے یہ بات کھلے طورپر بتادی۔الدَّابِرُالدَّابِرُکے معنی ہیں التَّابِعُ۔تابع۔آخِرُ کُلِّ شَیْ ءٍ ہرچیز کاآخری حصہ۔یُقَالُ قَطَعَ اللّٰہُ دَابِرَھُمْ اَیْ آخِرَ مَنْ تَبَقَّی مِنْھُمْ اورقَطَعَ اللّٰہُ دَابِرَھُمْ میں دابر آخر کے معنوں میں ستعمال ہواہے۔یعنی اللہ نے ان میں سے سب سے پیچھے رہنے والے کو بھی تباہ کردیا۔اَلْاَصْلُ جڑھ(اقرب)الغرض دابر سے مراد کبھی جڑ ھ ہوتی ہے یعنی بڑے لوگ۔کیونکہ وہ بطور جڑھ کے ہوتے ہیں اورباقی لوگ بطور فرع کے۔اور کبھی دابر سے مراد ساری قوم ہوتی ہے اوریہاں پر سب قوم ہی مراد ہے کیونکہ صرف آل لوط کے بچائے جانے کی خبر ہے۔تفسیر۔یہ آیت خدا تعالیٰ کاکلام معلوم ہوتی ہے ان مرسلوں کاقول نہیں۔اوریہ بھی ہو سکتا ہے کہ گذشتہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کاکلام ہو۔مگر یہ آیت ضرور اللہ تعالیٰ کاکلام ہے جومعلوم ہوتاہے۔ان مرسلوں کی صداقت پر گواہی دینے کے لئے حضرت لوط ؑپر نازل ہوا۔اورانہیں بتایاگیا کہ ان لوگوں نے جو تم کو بتایا ہے کہ آج رات کے آخر پر عذاب آئے گا۔یہ درست ہے۔ہماری ہی بتائی ہوئی یہ خبرہے۔اورصبح کے وقت ضرور یہ قوم تباہ ہوجائے